ہر شہری 3 لاکھ روپے کا مقروض، کس دور حکومت میں کتنا قرضہ لیا گیا؟

منگل 7 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق وفاقی حکومت نے نومبر میں ایک ہزار 252 ارب روپے قرض لیا اور نومبر 2024 تک قرضے کا مجموعی حجم 70 ہزار366 ارب روپے ہوگیا ہے، جس میں مقامی قرضہ 48 ہزار 585 ارب روپے اور بیرونی قرضے کا حصہ 21 ہزار 780 ارب روپے تھا۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت کے آخر میں اپریل 2022 میں وفاقی حکومتوں نے مجموعی طور پر 43 ہزار 500 ارب روپے کا قرض لیا تھا جس کے بعد پی ڈی ایم حکومت، نگراں حکومت اور اب شہباز شریف حکومت نے مجموعی طور پر 27 ہزار ارب روپے کا مزید قرض لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں کس پارٹی کے دور حکومت میں سرکاری بینکوں سے سب سے زیادہ قرضے معاف کرائے گئے؟

اسٹیٹ بینک کے مطابق مجموعی حکومتی قرض جی ڈی پی کے 65 فیصد کے برابر ہوگیا ہے اور اس وقت پاکستان کا ہر شہری 3 لاکھ روپے کا مقروض ہوگیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی مجموعی قرض میں ماہانہ بنیاد پر1.1 فیصد اور سالانہ بنیاد پر تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ سال ستمبر میں قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ نے بتایا تھا کہ گزشتہ 5 سال کے دوران مختلف حکومتوں نے مجموعی طور پر 57 ارب 27 کروڑ ڈالرز کا قرضہ لیا جس میں سے 9 ارب 81 کروڑ ڈالرز قرضہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے لیا گیا اور 3 ارب 90 کروڑ ڈالرز قرض پر سود ادا کیا گیا۔

پاکستان میں مختلف حکومتوں نے اپنے دور میں آئی ایم ایف سے بھی قرض لیا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں 2008 سے 2013 تک مجموعی طور پر 7 ارب 72 کروڑ 59 لاکھ ڈالر قرض لیا۔

یہ بھی پڑھیں پاکستان نے اماراتی بینکوں کو قرضہ لوٹا دیا، زرمبادلہ کے ذخائر 4.5 ارب ڈالر رہ گئے

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 2013 سے 2018 تک 6 ارب 48 کروڑ ڈالر قرض لیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں 2018 سے 2022 تک 6 ارب ڈالر کا قرض لیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کو ترک ریاستوں کی تنظیم ‘او ٹی ایس’ کا مکمل رکن بنایا جائے، ترک رکن پارلیمنٹ علی شاہین کا مطالبہ

ایران امریکا مذاکرات دوسرا دور: سیرینا ہوٹل میں انتظامات میں خاص کیا بات ہے؟

میانمار اسمگلنگ کی کوشش ناکام، بنگلہ دیش نیوی نے 11 افراد کو سیمنٹ سے بھری کشتی سمیت گرفتار کرلیا

پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے دوران فعال سفارت کاری بنگلہ دیش کے لیے مثال قرار

شاہراہ فیصل پر بینرز: فاطمہ جناح اور فریال تالپور کو ’نظریاتی بہنیں‘ قرار دینے پر ہنگامہ

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟