سنگاپور میں مقیم 31 سالہ ویتنامی خاتون نے انکشاف کیا ہے کہ وہ متعدد بار اپنے سنگاپوری شوہر سے طلاق لینے کے بارے میں سوچ چکی ہیں تاہم اپنے تین سالہ بچے سے ممکنہ جدائی کے خوف نے انہیں اس فیصلے سے روک رکھا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق خاتون گزشتہ چار برس سے اپنے شوہر کے ہمراہ سنگاپور میں مقیم ہیں تاہم ازدواجی تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ان کی زندگی کو شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی کے طلاق دینے والے مردوں سے متعلق بیان نے نئی بحث چھیڑ دی
خاتون کے مطابق شادی کے بعد وہ اپنے شوہر کے گھر منتقل ہو گئیں۔ اس وقت ان کے پاس مستقل ملازمت نہیں تھی جبکہ رہائشی دستاویزات بھی زیرِ تکمیل تھیں جس کے باعث وہ مکمل طور پر مالی طور پر اپنے شوہر پر انحصار کرتی تھیں۔
خاتون کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد گھریلو حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ سنگاپور میں ملازمین کے زیادہ اخراجات کے باعث انہوں نے اپنی والدہ کو ویتنام سے بلا لیا تاکہ وہ بچے کی دیکھ بھال میں مدد کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: طلاق کے بعد رجب بٹ کا بڑا اعلان، دوسری شادی پر خاموشی توڑدی
تاہم اس دوران دونوں خاندانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔ خاتون کے مطابق ان کی والدہ روزانہ تازہ اشیاء خریدنے کی عادی تھیں اور اکثر ویک اینڈ پر اپنے داماد سے دور واقع بازار جانے کے لیے مدد طلب کرتی تھیں جس پر ساس نے ناراضی کا اظہار کیا۔
بعد ازاں گھر میں ہونے والے ایک جھگڑے کے دوران ساس نے کہا تمہاری ماں تمہاری ذمہ داری ہے، میرے بیٹے کو اس کے لیے پریشان نہ کرو۔ خاتون کے مطابق اس تنازع کے دوران ان کے شوہر نے نہ تو والدہ کی حمایت کی اور نہ ہی ان کی طرف سے کوئی مؤقف اختیار کیا بلکہ وہ زیادہ تر خاموش رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈھول، مٹھائی اور رقص، بیٹی کو طلاق ہونے پر والد نے جشن کیوں منایا؟
ان کے مطابق شوہر کی اس خاموشی نے انہیں جذباتی طور پر تنہا کر دیا جس کے بعد میاں بیوی کے تعلقات میں مزید دوری پیدا ہو گئی۔ اگرچہ دونوں اب بھی ایک ساتھ رہتے ہیں اور گھریلو اخراجات و بچے کی پرورش مشترکہ طور پر انجام دیتے ہیں تاہم باہمی گفتگو انتہائی محدود ہو چکی ہے۔
خاتون نے کہا کہ انہوں نے متعدد بار طلاق پر غور کیا، لیکن ہر بار اپنے بچے کو دیکھ کر یہ فیصلہ مؤخر کر دیتی ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ غیر ملکی حیثیت اور محدود معاشی استحکام کے باعث طلاق کی صورت میں انہیں سنگاپور میں رہائش اور بچے کی حوالگی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’لگتا ہے انہیں طلاق ہو گئی ہے‘، شائستہ لودھی کی تصاویر دیکھ کر افواہیں گرم
ان کے مطابق ’سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ میں اپنے بچے سے جدا نہ ہو جاؤں‘۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ وہ سنگاپور میں اکیلے خود کو سنبھال سکیں گی لیکن یہ بھی کہا کہ اگر وہ اسی شادی میں رہیں تو وہ ذہنی طور پر تھک جائیں گی اور ان کا بچہ ایک ناخوش گھر میں بڑا ہوگا۔














