امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں نمایاں پیشرفت ہو رہی ہے اور ممکن ہے کہ آئندہ ایک یا 2 دن میں معاہدہ طے پا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ چھیڑی تو اسرائیل تنہا رہ جائے گا، ٹرمپ کا نیتن یاہو کو سخت انتباہ
امریکی صدر نے منگل کو نیویارک میں این بی اے فائنلز میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے مسلسل جاری رہے اور اب معاملات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
ان کے بقول دونوں فریق امریکی ثالثی کے ذریعے مزید کشیدگی سے گریز پر آمادہ ہوئے ہیں اور ایک ’بہت اچھے معاہدے کے امکانات روشن ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ 2 سے 3 روز کے اندر کوئی مثبت پیشرفت سامنے آ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ انہوں نے اس سے قبل بھی متعدد بار کہا ہے کہ تہران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے تاہم عملی طور پر دونوں جانب سے ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات کے باعث سفارتی عمل تعطل کا شکار رہا ہے۔
مزید پڑھیے: اسرائیل اور ایران فوری جنگ بندی کے خواہاں ہیں، حتمی معاہدے تک امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی، ڈونلڈ ٹرمپ
حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان محدود فوجی کارروائیوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں اسرائیل نے ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً 30 میزائل فائر کیے گئے تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں لبنان کی صورتحال کو بھی شامل کیا جانا چاہیے جہاں اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔ ایران نے اتوار کے روز اسرائیل پر میزائل حملے کیے تھے، جس کے بعد اسرائیل نے جوابی کارروائی کی حالانکہ امریکا نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے بعد ازاں کہا کہ اس محاذ پر صورتحال قابو میں ہے تاہم دونوں ممالک کے رہنماؤں اور فوجی حکام کی جانب سے مزید کارروائیوں کی دھمکیاں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: نیتن یاہو نہیں، فیصلے میں کرتا ہوں؛ اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران سے معاہدہ قریب ہے، ٹرمپ
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں تو وہ دوبارہ حملے کرے گا جبکہ اسرائیل نے کسی بھی نئی ایرانی کارروائی کا ’پورے زور سے جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے واضح کیا ہے کہ لبنان میں فوجی کارروائیاں سفارتی پیشرفت سے قطع نظر جاری رہیں گی۔ ان کے مطابق شمالی اسرائیل پر حملوں کی صورت میں جنوبی بیروت کے حزب اللہ سے منسلک علاقوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق اسرائیل ایران کے خلاف مزید بڑے حملوں کی تیاری کر رہا تھا تاہم صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر نیتن یاہو سے رابطہ کر کے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر حالات مزید بگڑے تو اسرائیل خود کو تنہا پا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: معاہدے سے پہلے ایرانی اثاثے بحال نہیں ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا ہے کہ واشنگٹن اور اسرائیل کے اسٹریٹجک مفادات مشترک ضرور ہیں تاہم بعض معاملات میں دونوں ممالک کے نقطہ نظر میں اختلاف بھی پیدا ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب جنوبی لبنان میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے جہاں لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 14 افراد شہید ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی علاقوں میں تعینات اس کے دستوں پر راکٹ اور دیگر حملے کیے گئے جن میں بعض کو ناکام بنا دیا گیا جبکہ کچھ حملے نقصان پہنچائے بغیر زمین پر گرے۔ اسرائیل نے یمن سے آنے والے ایک مشتبہ فضائی ہدف کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
کشیدگی کے باوجود تہران میں معمولات زندگی بڑی حد تک جاری رہے اگرچہ شہری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور بعض مقامات پر پیٹرول اسٹیشنوں کے باہر قطاریں بھی دیکھی گئیں۔
تل ابیب میں فضائی حملے کے سائرن بجنے پر شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانا پڑا جہاں لوگوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ موجودہ کشیدگی کسی بھی وقت وسیع تر تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
ایرانی حکام نے میزائل حملوں کے تبادلے کے بعد تہران کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ دوبارہ کھول دیا ہے جس کے بعد سعودی عرب سے حج مکمل کر کے آنے والے زائرین کی پروازیں بھی لینڈ کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر سخت تنقید، ڈیموکریٹس کو آڑے ہاتھوں لے لیا
علاقائی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے سے توانائی کی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی، تاہم منگل کو تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کاروں نے خطرات کا ازسرِنو جائزہ لینا شروع کر دیا۔
ادھر سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا، البتہ مسلسل کشیدگی سفارتی عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔
پاکستان بھی سفارتی رابطوں میں متحرک دکھائی دے رہا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی حال ہی میں اسی سلسلے میں ایران گئے تھے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اب بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہے اور سفارتی حل کی کوششوں کو جاری رکھنا چاہتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود فریقین سیاسی راستہ اختیار کرنے کے امکانات کو مکمل طور پر مسترد نہیں کر رہے۔













