ایران کے خلاف جنگ ختم کردی، معاہدہ چند روز میں ہوسکتا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے اور ایران اس بات پر آمادہ ہو گیا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک باضابطہ معاہدہ آئندہ چند روز میں یورپ میں طے پا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا منفرد انداز، 80ویں سالگرہ پر وائٹ ہاؤس میں مکسڈ مارشل آرٹس مقابلہ

جارجیا کے لیفٹیننٹ گورنر برٹ جونز کی انتخابی مہم کے سلسلے میں منعقدہ ایک ٹیلی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا شاید آپ نے سنا ہو ہم نے آج ایران کے ساتھ جنگ ختم کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور یہی اس پوری کشیدگی کا بنیادی مقصد تھا۔

اس سے قبل ٹرمپ نے ایک بیان میں ایران کے ساتھ بڑی مفاہمت ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے تحت ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے بتایا کہ اگر معاہدے کی دستاویزات آئندہ چند روز میں مکمل ہو گئیں تو اس پر دستخط کی تقریب یورپ میں منعقد ہو سکتی ہے جہاں امریکا کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔

ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایک اہم پیشرفت ہے اور معاہدے کی بیشتر شقوں پر اتفاق ہو چکا ہے تاہم حتمی دستاویزات کی تیاری ابھی باقی ہے۔

مزید پڑھیے: صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک بار پھر عظیم جنرل قرار دے دیا

ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں عظیم شخصیات قرار دیا اور کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم پیشرفت ہو چکی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ آئندہ چند روز میں طے پا سکتا ہے۔

انتخابی مہم کے سلسلے میں منعقدہ ایک ٹیلی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے پر خطے کے مختلف رہنماؤں نے مثبت کردار ادا کیا، جن میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت بھی شامل ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام لے کر ان کی تعریف کی اور کہا کہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ایک بہترین شخصیت ہیں جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک مضبوط اور باصلاحیت رہنما ہیں۔ میں ان دونوں کا احترام کرتا ہوں اور ان کی کوششوں کو سراہتا ہوں۔

جنگ کے خاتمے کا دعویٰ

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک بڑی مفاہمت ہوچکی ہے۔

ان کے مطابق معاہدے کے تحت ایران نہ تو جوہری ہتھیار رکھے گا اور نہ ہی انہیں خریدنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت نے اس مفاہمت کی منظوری دے دی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی قیادت کے ساتھ معاہدہ طے پا جانے اور حملہ منسوخ کرنے کا اعلان

ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو بھی دوبارہ کھول دیا جائے گا جسے ایران نے حالیہ کشیدگی کے دوران بند کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں عظیم شخصیات قرار دیا اور کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم پیشرفت ہو چکی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ آئندہ چند روز میں طے پا سکتا ہے۔

جارجیا کے لیفٹیننٹ گورنر برٹ جونز کی انتخابی مہم کے سلسلے میں منعقدہ ایک ٹیلی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے پر خطے کے مختلف رہنماؤں نے مثبت کردار ادا کیا، جن میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت بھی شامل ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام لے کر ان کی تعریف کی اور کہا کہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ایک بہترین شخصیت ہیں جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک مضبوط اور باصلاحیت رہنما ہیں۔ میں ان دونوں کا احترام کرتا ہوں اور ان کی کوششوں کو سراہتا ہوں۔

پہلے حملوں کی دھمکی، پھر منسوخی

جمعرات کی صبح ٹرمپ نے ایران پر مزید شدید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایران کے اہم تیل کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا اور خلیج فارس میں واقع خارگ جزیرے سمیت اہم تنصیبات پر کنٹرول حاصل کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں نیا موڑ، ٹرمپ کا ایرانی قیادت سے براہِ راست رابطے کا انکشاف

بعد ازاں انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک اور بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اعلیٰ سطح تک پہنچ چکے ہیں اور تمام متعلقہ فریق بنیادی نکات پر متفق ہو گئے ہیں جس کے بعد طے شدہ حملے منسوخ کر دیے گئے۔

ٹرمپ کے مطابق امریکا، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر ممالک اس عمل میں شامل رہے ہیں۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کی حتمی تکمیل تک ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

ایران کا محتاط ردعمل

دوسری جانب ایران نے معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے دعوؤں پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا اور مذاکرات میں اپنی ریڈ لائنز پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے متن کا بڑا حصہ تیار ہو چکا ہے تاہم امریکا مذاکرات کے دوران مسلسل اپنی پوزیشن تبدیل کر رہا ہے اور نئی شرائط سامنے لا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا، ایران امن معاہدے کا مجوزہ مسودہ سامنے آگیا، جنگ بندی میں 60 روز توسیع کی تجویز

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی خبردار کیا کہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران ٹرمپ متعدد مرتبہ معاہدہ قریب ہونے کا اعلان کر چکے ہیں، اس لیے جب تک ایران باضابطہ طور پر کسی مفاہمت کی تصدیق نہیں کرتا، امریکی دعوؤں کو محتاط انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔

اسرائیل کا مؤقف

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اس معاملے پر رابطہ ہوا ہے تاہم اسرائیل اس مجوزہ مفاہمت کا فریق نہیں ہے۔

بیان کے مطابق نیتن یاہو نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں ایران کے افزودہ جوہری مواد کا خاتمہ، افزودگی کے بنیادی ڈھانچے کی بندش، میزائل پروگرام پر پابندیاں اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی سرگرمیوں کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔

خطے میں کشیدگی

امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ اگرچہ اپریل میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں دونوں جانب سے دوبارہ حملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔

مزید پڑھیے: ٹرمپ کا کانگریس سے 350 ارب ڈالر کے دفاعی پیکج کی منظوری کا مطالبہ، ’امریکا کو دوبارہ مضبوط بنانے‘ کا عزم

چین، روس اور متعدد دیگر ممالک پہلے ہی فریقین پر زور دے چکے ہیں کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کرتے ہوئے سفارتی راستہ اختیار کریں تاکہ خطے میں مزید عدم استحکام سے بچا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp