امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے انہیں عظیم شخصیات قرار دیا اور کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم پیشرفت ہو چکی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ آئندہ چند روز میں طے پا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک بار پھر عظیم جنرل قرار دے دیا
جارجیا کے لیفٹیننٹ گورنر برٹ جونز کی انتخابی مہم کے سلسلے میں منعقدہ ایک ٹیلی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے پر خطے کے مختلف رہنماؤں نے مثبت کردار ادا کیا، جن میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت بھی شامل ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام لے کر ان کی تعریف کی اور کہا کہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ایک بہترین شخصیت ہیں جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک مضبوط اور باصلاحیت رہنما ہیں۔ میں ان دونوں کا احترام کرتا ہوں اور ان کی کوششوں کو سراہتا ہوں۔
مزید پڑھیے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایرانی قیادت کے ساتھ معاہدہ طے پا جانے اور حملہ منسوخ کرنے کا اعلان
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازعے کے حل میں کئی علاقائی ممالک نے کردار ادا کیا اور پاکستان بھی ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے سفارتی رابطوں اور امن کی کوششوں میں تعاون کیا۔
’ہم نے آج ایران کے ساتھ جنگ ختم کر دی‘
اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شاید آپ نے سنا ہو، ہم نے آج ایران کے ساتھ جنگ ختم کر دی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں نیا موڑ، ٹرمپ کا ایرانی قیادت سے براہِ راست رابطے کا انکشاف
انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ مان لیا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں رکھیں گے اور یہی اس پوری کارروائی کا بنیادی مقصد تھا۔
معاہدہ حتمی مراحل میں داخل
اس سے قبل اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک بڑی مفاہمت طے پا چکی ہے اور آئندہ چند روز میں اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دستاویزات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور اگر تمام معاملات طے پا گئے تو معاہدے پر دستخط یورپ میں ہوں گے۔
ٹرمپ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس ممکنہ دستخطی تقریب میں امریکا کی نمائندگی کریں گے۔
آبنائے ہرمز کھلنے کا دعویٰ
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ طے پانے کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے نتیجے میں نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات ختم ہوں گے بلکہ خطے میں تجارتی اور تیل کی ترسیل کے راستے بھی معمول پر آ جائیں گے۔
اسرائیل اور علاقائی رہنماؤں سے رابطے
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو سمیت متعدد علاقائی رہنماؤں سے رابطہ کیا ہے۔
ان کے بقول، پورا مشرقِ وسطیٰ خوش ہے بلکہ مشرق وسطیٰ سے باہر بھی لوگ اس پیشرفت کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کا کانگریس سے 350 ارب ڈالر کے دفاعی پیکج کی منظوری کا مطالبہ، ’امریکا کو دوبارہ مضبوط بنانے‘ کا عزم
تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل مجوزہ مفاہمتی یادداشت کا فریق نہیں ہے۔
ایران کا محتاط ردعمل
دوسری جانب ایران نے ٹرمپ کے دعوؤں پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور ایران ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر سخت تنقید، ڈیموکریٹس کو آڑے ہاتھوں لے لیا
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے متن کا بڑا حصہ تیار ہو چکا ہے تاہم بعض اہم نکات پر بات چیت باقی ہے اور ایران اپنی بنیادی پالیسیوں اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔













