ایران پر حملہ منسوخ کرنے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستانی قیادت کو فون، پاکستان نے سفارتی رابطوں میں اہم کردار کیا، امریکی تجزیہ کار

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی تجزیہ کار ماریو نافل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف مجوزہ امریکی حملے منسوخ کرنے سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی قیادت سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا جبکہ پاکستان پس پردہ سفارتی کوششوں کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں کردار ادا کر رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امن مذاکرات: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک بار پھر خراج تحسین

ماریو نافل نے پاکستان کو ایران کے ساتھ رابطوں میں ایک اہم ثالث قرار دیتے ہوئے ماریو نافل نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا کہ مذاکراتی عمل میں پیشرفت ہوئی ہے اور انہیں بتایا گیا کہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔

ان کے بقول اس صورتحال سے یہ تاثر ملتا ہے کہ صدر ٹرمپ محض یکطرفہ طور پر کامیابی کا اعلان نہیں کر رہے تھے بلکہ انہیں ممکنہ مفاہمت کے حوالے سے براہِ راست یقین دہانیاں بھی موصول ہوئی تھیں۔

تاہم امریکی تجزیہ کار نے خبردار کیا کہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا واقعی کوئی حتمی سمجھوتا موجود ہے یا ایران اب بھی وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: ایران کے خلاف جنگ ختم کردی، معاہدہ چند روز میں ہوسکتا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ماریو نافل کا کہنا تھا کہ موجودہ سفارتی عمل زیادہ تر غیر اعلانیہ رابطوں، پس پردہ مذاکرات اور باہمی توقعات پر مبنی دکھائی دیتا ہے جبکہ اس حوالے سے کوئی باضابطہ اور عوامی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔

امریکی تجزیہ کار ماریو نافل۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریب سمجھے جانے والے ایک ذریعے نے اس بات کی تردید کی ہے کہ تہران نے امریکا کے ساتھ کسی مفاہمتی یادداشت یا باضابطہ سمجھوتے کی منظوری دی ہے۔

ان کے مطابق یہ مؤقف صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں سے متصادم ہے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت مجوزہ معاہدے کے متن پر اصولی اتفاق کر چکی ہے۔

تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ متضاد بیانات کے باعث امریکا اور ایران کے درمیان مبینہ مفاہمت کی اصل صورتحال بدستور غیر واضح ہے جبکہ نہ امریکا اور نہ ہی ایران نے کسی حتمی معاہدے کی سرکاری تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں نیا موڑ، ٹرمپ کا ایرانی قیادت سے براہِ راست رابطے کا انکشاف

دوسری جانب پاکستان کی جانب سے بھی ماریو نافل کے دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو دنیا بالعموم اور اہم ترین ممالک بالخصوص وقتاً فوقتاً سراہتے رہتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا ورلڈ کپ: یوراگوئے، ایران اور بیلجیئم کو افتتاحی میچوں میں ڈراز کا سامنا

افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی عالمی امن کے لیے خطرہ، یورپی یونین کی پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت

اقصادی سروے اور غربت کی شرح، عام آدمی کہاں کھڑا ہے؟

امریکی حملے میں 3 بھارتی ملاحوں کی ہلاکت، مودی حکومت کی خارجہ پالیسی تنقید کی زد میں

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان معاملات طے، بلوچستان کے کاروبار پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات، نقصان عوام کا کیسے؟

ایران امریکا کے درمیان فریم ورک معاہدہ کیا ہے اور آئندہ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں کیا طے کیا جائے گا؟

کالم / تجزیہ

تاریخ کا رخ موڑنے والا ایک نیا اور سرخرو پاکستان

پنجاب کا حق، ایتھے رکھ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ