امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت منجمد ایرانی اثاثے کھولے جانے کے بعد ان رقوم سے امریکی گندم، سویابین اور مکئی خریدی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے وہ اثاثے جو مفاہمت کے تحت بحال کیے جائیں گے، ان سے امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
President Donald Trump says the United States will soon buy wheat, soybeans and corn from American farmers using Iranian assets that have been frozen under US sanctions. pic.twitter.com/PC22N9YMZF
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) June 26, 2026
ٹرمپ نے ایرانی اثاثوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان رقوم کو استعمال کرتے ہوئے بڑی مقدار میں گندم، سویابین اور مکئی خریدی جائے گی اور یہ عمل جلد شروع ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ یہ خریداری کا عمل بڑے پیمانے پر ہو گا، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے سے خلیجی اتحادی ممالک کی سلامتی یا استحکام متاثر نہیں ہوگا۔
ر
روبیو نے کہا کہ واشنگٹن امن کے لیے تیار ہے، تاہم ایران کو آبنائے ہرمز کے استعمال پر کسی قسم کی فیس یا ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی سینیٹ نے ایران جنگ سے متعلق صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے والی قرارداد مسترد کر دی۔ اس سے قبل سینیٹ نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں ایران جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:معاہدے سے پہلے ایرانی اثاثے بحال نہیں ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد سفارتی رابطوں اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سرگرمیاں جاری ہیں۔













