اداکارہ، مصنفہ اور ہدایت کار دیویا اُنّے نے اپنے پوسٹر کے ساتھ پیش آنے والے ایک توہین آمیز واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ان کی ذات کا معاملہ نہیں بلکہ معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونے والی عمومی بے حرمتی اور تشدد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے سب سے پہلے معاشرتی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں سینسوڈائن کے اشتہاری پوسٹر پر جس میں دیویا اُنّے کی تصویر موجود تھی چند افراد پان کی پیک تھوکتے ہوئے نظر آئے۔ اس واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور اداکارہ سے اس پر ردِعمل دینے کا مطالبہ کیا۔
View this post on Instagram
اپنے انسٹاگرام ویڈیو پیغام میں دیویا نے بتایا کہ بہت سے لوگوں نے انہیں یہ وائرل ویڈیو بھیجی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اسی دیوار پر کئی مرد سیاستدانوں کے پوسٹر بھی لگے ہوئے تھے مگر صرف ایک خاتون کی تصویر کو نشانہ بنایا گیا۔
اس حوالے سے دیویا نے کہا کہ ’اس پوسٹر پر میری نہیں بلکہ ایک عورت کی تصویر تھی اور وہ کوئی بھی عورت ہو سکتی تھی۔ میں اسے ذاتی طور پر نہیں لوں گی کہ کسی نے دیویا اُنّے کے چہرے پر تھوکا ہے کیونکہ یہ سوچے سمجھے بغیر دیا جانے والا ردِعمل ہوگا‘۔
یہ بھی پڑھیں: موت کی جھوٹی خبروں پر وسیم اکرم کا سخت ردعمل، فیک ویڈیوز بنانے والوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہاں مجھے اس واقعے سے دکھ اور پریشانی ضرور ہوئی لیکن اگر اس کا موازنہ اس ملک میں خواتین، کم عمر بچیوں سے لے کر 60 اور 70 سال کی عمر کی خواتین تک کے ساتھ ہونے والے تشدد اور بدسلوکی سے کیا جائے تو یہ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ یہ تو صرف چند مردوں کا تھوکنا ہے‘۔
دیویا نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ ذہنیت، تربیت اور نسل در نسل منتقل ہونے والی سوچ کا ہے۔ جب تک ہمارے ملک کے مرد یہ محسوس نہیں کریں گے کہ ان کی سوچ غلط ہے اور جب تک ہم اپنے بیٹوں کی بہتر تربیت نہیں کریں گے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ’یہ سب پیسے کا کھیل ہے‘، خلیل الرحمان قمر کا مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ تنازع پر بڑا بیان، لِو اِن ریلیشن شپ پر سخت ردعمل
میرے پوسٹر کے ساتھ جو ہوا وہ اتنی بڑی بات نہیں لیکن ایک عورت ہونے کے ناطے میں نے خود کو پہلے کبھی اتنا غیر محفوظ محسوس نہیں کیا اور میں اپنی استطاعت کے مطابق اس صورتحال کو بدلنے کی کوشش کرتی رہوں گی۔














