چین سے ٹکرانے کے بعد سمندری طوفان باوی کی شدت میں کمی، لاکھوں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

اتوار 12 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سمندری طوفان باوی اتوار کو مشرقی چین سے ٹکرانے کے بعد کمزور ہو کر شدید نوعیت کے حاری طوفان میں تبدیل ہوگیا۔ طوفان کے ممکنہ راستے میں آنے والے علاقوں سے حکام نے قریباً 20 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا تھا۔

چین پہنچنے سے قبل طوفان نے شمالی تائیوان اور جاپان کے دور دراز جنوب مغربی جزائر کو شدید متاثر کیا، جہاں درخت اکھڑ گئے اور ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہوگئے۔

مزید پڑھیں: طوفان ’باوی‘ کی آمد، چین میں شدید بارشوں کا ریڈ الرٹ جاری

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شدید موسمی حالات نے جنوبی اور وسطی چین میں پہلے ہی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ طوفانوں کے نتیجے میں کم از کم 39 افراد ہلاک ہوئے، درجنوں دریاؤں میں طغیانی آگئی جبکہ ایک آبی ذخیرہ بھی ٹوٹ گیا۔

طوفان باوی صوبہ ژی جیانگ سے ٹکرا گیا

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے صوبائی محکمہ موسمیات کے حوالے سے بتایا کہ باوی ہفتے کی رات قریباً 11 بج کر 20 منٹ پر پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 20 منٹ پر صوبہ ژی جیانگ سے ٹکرایا، اس وقت ہواؤں کی رفتار 144 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

چین کے سرکاری ٹیلی وژن نے بتایا کہ طوفان کے یُوہوان شہر سے ٹکرانے کے دوران مرکزی متاثرہ علاقے میں تیز ہواؤں اور موسلادھار بارش کا سامنا کرنا پڑا۔ زمین پر تیزی سے پانی جمع ہوگیا جبکہ سڑکوں کے کنارے موجود درخت جڑوں سے اکھڑ گئے۔

بعد ازاں طوفان یُوچنگ شہر سے ٹکرایا، جہاں سی سی ٹی وی کے مطابق فائر فائٹرز، امدادی کارکنوں اور بلدیاتی ملازمین نے گرنے یا جڑوں سے اکھڑنے والے 1300 سے زیادہ درختوں کو ہٹانے کا کام شروع کردیا۔

چین کی موسمیاتی انتظامیہ کے مطابق اتوار کی صبح قریباً 10 بجے، پاکستانی وقت کے مطابق صبح 7 بجے، طوفان کا مرکز صوبہ ژی جیانگ کے دارالحکومت ہانگژو کے قریب پہنچ گیا تھا۔ اس وقت طوفان کے ساتھ دسویں درجے کی قریباً 108 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی ہوائیں چل رہی تھیں۔

صوبائی حکام نے ساحلی علاقوں میں طوفانی بارشوں اور اچانک سیلاب آنے کا خدشہ ظاہر کیا۔ شنہوا کے مطابق حکام نے خبردار کیاکہ ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہوسکتا ہے، دریاؤں میں طغیانی آسکتی ہے اور زرعی زمینیں زیرِ آب آسکتی ہیں۔

شنہوا کے مطابق ہفتے تک قریباً 17 لاکھ 20 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا تھا۔

تعلیمی ادارے، ٹرانسپورٹ اور پروازیں معطل

طوفان کی آمد سے قبل تعلیمی سرگرمیاں، کام کاج، ٹرانسپورٹ اور بیرونی سرگرمیاں معطل کردی گئی تھیں، جبکہ صوبہ ژی جیانگ میں 300 سے زیادہ پروازیں منسوخ کردی گئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شنگھائی میں مزید 684 پروازیں اور 1620 ٹرین سروسز منسوخ کی گئیں۔

اتوار کو آن لائن شیئر کی جانے والی تصاویر میں صوبہ ژی جیانگ کے شہر وینژو کی سڑکیں سیلابی پانی میں ڈوبی ہوئی دکھائی دیں۔ وینژو کی آبادی قریباً ایک کروڑ ہے۔

مزید پڑھیں: چین میں تباہ کن بارشوں کے بعد سپر طوفان ’باوی‘ کا خطرہ، بھارت میں بھی مون سون نے تباہی مچا دی

وینژو حکومت نے ایک بیان میں کہاکہ وہ بدترین ممکنہ صورتحال سے بچنے کے لیے کسی بھی کوشش یا اخراجات سے دریغ نہیں کر رہی۔

سی سی ٹی وی کی فوٹیج میں شہریوں کو دکانوں کے حفاظتی دھاتی شٹر مضبوط بنانے کے لیے لکڑی کے تختے استعمال کرتے اور کھڑکیوں پر ٹیپ لگاتے ہوئے دکھایا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی جوڈیشل کمیٹی قائم، یہ کیسے کام کرے گی اور اس کے اختیارات کیا ہوں گے؟

پیپلز پارٹی کا 40 برس بعد مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان، بلاول بھٹو کے لیے یہ سیاسی امتحان کتنا اہم؟

ایرانی حکومت ہوش مندی سے کام لے ورنہ پورا خطہ پہلے سے زیادہ امریکی گرفت میں چلا جائےگا، منصور جعفر

پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت الگ نہیں کر سکتی، فرزانہ یعقوب

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!