بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں حجام اور مزدوروں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کے اس واقعے میں بے گناہ شہریوں اور دیہاڑی دار مزدوروں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیں:بلوچستان کے 142 ہائی رسک یونین کونسلز میں 13 جولائی سے 7 روزہ خصوصی پولیو مہم
رائے عامہ کے مطابق مقتولین پنجاب سے تعلق رکھنے والے محنت کش تھے، جو مقامی آبادی کو خدمات فراہم کرتے ہوئے حلال روزی کما رہے تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ علاقے میں مہمان تھے اور ان کا قتل بلوچ روایات، بالخصوص مہمان نوازی اور مہمانوں کے تحفظ کی اقدار کے بھی منافی ہے۔
واشک کے علاقے ماشکیل میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا بزدلانہ حملہ ، 5 مزدور شہید
فتنہ الہندوستان کے بزدل دہشت گردوں نے معصوم اور نہتے مزدوروں کو نشانہ بنایا ، *سیکیورٹی ذرائع*
شہید ہونےو الے مزدوروں میں محمد بلال ، محمد حسن، محمد قدیر، محسن اور بلال شامل pic.twitter.com/apvunpCXl3— Media Talk (@mediatalk922) July 12, 2026
یہ حملہ صرف چند افراد پر نہیں بلکہ نسلی تقسیم کو ہوا دینے، خوف و ہراس پھیلانے اور پاکستان کی قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ نہتے شہریوں کا بہیمانہ قتل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کی ہر سطح پر واضح مذمت ہونی چاہیے۔
خود کو انسانی حقوق کا علمبردار قرار دینے والے حلقوں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان(HRCP) سمیت بعض تنظیموں کی خاموشی ان کے انسانی حقوق سے متعلق مؤقف کے حوالے سے سوالات کو جنم دیتی ہے۔
مزید پڑھیں:بلوچستان: آپریشن شعبان جاری، مزید 9 خوارج ہلاک، مجموعی تعداد 88 ہوگئی
دہشتگردی نے بلوچستان کے عوام کو غم، عدم استحکام اور معاشی مشکلات کے سوا کچھ نہیں دیا، جبکہ ایسے جرائم کی حمایت، توجیہ یا ان پر خاموشی تشدد کے سلسلے کو طول دینے اور امن، استحکام اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔














