آزاد کشمیر میں انتخابات کے دوران پبلک سروس کمیشن کے 7 ارکان کی تقرری، اپوزیشن کا اعتراض

اتوار 9 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں و کشمیر حکومت نے انتخابات کے دوران پبلک سروس کمیشن کے 7 نئے ارکان کو 3 سال کے لیے مقرر کردیا، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے تقرریوں کے وقت اور طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دے دیا۔

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے 8 اگست کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 7 ارکان کو آئینی ادارے میں مقرر کیا گیا ہے، جو آزاد کشمیر میں مسابقتی امتحانات اور مختلف سرکاری عہدوں پر بھرتیوں کے عمل کی نگرانی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر حکومت میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں، 12 افسران کے تقرر و تبادلے کا نوٹیفکیشن جاری

پبلک سروس کمیشن کے ارکان کی تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب آزاد کشمیر میں عام انتخابات مرحلہ وار جاری ہیں اور انتخابی عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔

اپوزیشن جماعتوں، جن میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف شامل ہیں، نے تقرریوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو انتخابات کے دوران ایسے اہم فیصلے کرنے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔

’تقرریاں نئی حکومت پر چھوڑ دینی چاہییں تھیں‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خواجہ فاروق نے تقرریوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل کے دوران اس نوعیت کے فیصلے کرنا اخلاقی طور پر مناسب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اہم سرکاری اداروں میں تقرریاں انتخابات کے بعد بننے والی نئی حکومت پر چھوڑ دینی چاہییں تھیں تاکہ عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے والی حکومت اپنی مرضی سے اداروں کے حوالے سے فیصلے کرسکے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ، شہباز شریف کے تعینات کردہ متعدد افسران تبدیل

خواجہ فاروق کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے انتخابات کے دوران کی جانے والی تقرریوں سے سیاسی بحث مزید شدت اختیار کرے گی۔

پبلک سروس کمیشن کے نئے ارکان کون ہیں؟

آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن کے لیے مقرر کیے گئے 7 نئے ارکان میں مدحت شہزاد، منیر حسین چوہدری، ڈاکٹر لیاقت حسین، محمد زاہد خان، ڈاکٹر عبد القدوس خان، ڈاکٹر عبد الحمید اور محمد سلیم خان شامل ہیں۔

آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن مختلف سرکاری عہدوں کے لیے مسابقتی امتحانات اور انتخابی عمل کے ذریعے افسران و اہلکاروں کی بھرتی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس کے باعث انتخابی مرحلے کے دوران اس کی تشکیل سیاسی طور پر بھی اہمیت رکھتی ہے۔

حکومت کی جانب سے تاحال اپوزیشن کی تنقید پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی انتخابی عمل کے دوران ان تقرریوں کے وقت کی وضاحت کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان کے ضلع سوراب میں امن و امان کے خدشات پر 15 اگست تک کرفیو نافذ

امریکا ایران سے محدود سطح پر مذاکرات کررہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

میر رضا قتل کیس: سندھ حکومت کا تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ

مکہ دفاعی معاہدے کی خوشی میں اسلام آباد کے نیو بلیو ایریا میں شاندار آتش بازی، عوام کا جوش و خروش

سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں بچوں کے لیے بستروں کی شدید کمی، ہزاروں خاندان پریشان

ویڈیو

’اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے چنا ہے‘، مکہ دفاعی معاہدے پر اراکین پارلیمنٹ کا اظہار خیال

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران اور عمان معاہدے کے قریب، تہران نے امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط رکھ دی

اگر عام آدمی کا احتساب ہوتا ہے تو وزرا بھی قانون سے ماورا نہیں، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

سب گل سڑ چکا ہے

فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار