پشاور پولیس نے ایک عمر رسیدہ شخص کو گرفتار کرکے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم 1987 میں درج ایک قتل کے مقدمے میں مطلوب تھا اور حلیہ تبدیل کرکے گرفتاری سے بچ رہا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم 1987 میں ڈکیتی کے دوران قتل کے مقدمے میں مطلوب تھا اور گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنا حلیہ تبدیل کرکے کئی سال تک روپوش رہا۔
پولیس کے مطابق ملزم کی گرفتاری جرائم پیشہ اور اشتہاری افراد کے خلاف جاری خصوصی کریک ڈاؤن کے دوران پشاور کے نواحی علاقے تھانہ داؤد زئی کی حدود سے عمل میں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں پارٹی ڈانسر کا لرزہ خیز قتل، پولیس ملزم تک کیسے پہنچی؟
تھانہ داؤد زئی کے ایس ایچ او فہیم شاہ خان نے بتایا کہ پولیس حکام کی ہدایات پر اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے پرانے مقدمات کا ریکارڈ دوبارہ کھولا گیا اور ان میں مطلوب افراد کی تلاش شروع کی گئی۔
اسی کارروائی کے دوران 1987 میں ڈکیتی کے دوران قتل کے مقدمے میں مفرور ایک ملزم کی تفصیلات سامنے آئیں، جبکہ خفیہ اطلاع کے ذریعے اس کی اپنے آبائی علاقے میں موجودگی کی بھی تصدیق ہوئی۔
پولیس ملزم تک کیسے پہنچی؟
ایس ایچ او فہیم شاہ خان کے مطابق مقدمہ 1987 میں درج کیا گیا تھا اور اس میں 5 نامعلوم ملزمان نامزد تھے۔
تھانے کا پرانا ریکارڈ چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ مقدمے میں کچھ گرفتاریاں بھی عمل میں آئی تھیں اور ملزمان کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم ایک ملزم مفرور تھا۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ کارروائی کے دوران پولیس کو خفیہ اطلاع ملی کہ مذکورہ ملزم حلیہ تبدیل کرکے اپنے علاقے میں رہائش پذیر ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس کی بڑی کارروائی، تھانہ ہمک میں قتل کے 3 ملزمان گرفتار
اطلاع ملنے پر پولیس ٹیم نے اس کے گھر پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کرلیا۔
فہیم شاہ خان نے بتایا کہ جب پولیس ملزم کے پاس پہنچی تو اس نے ابتدا میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ اس کا قصور کیا ہے اور پولیس کس تھانے سے آئی ہے۔
’جب ہم نے تھانہ داؤد زئی کا بتایا تو ملزم سمجھ گیا اور فوراً بولا کہ اس نے پرانا کام چھوڑ دیا ہے۔‘
مزید پڑھیں: کراچی، چھالیہ اسمگل کرنے والے ملزمان نے پولیس اہلکار کو گاڑی تلے کچل کر قتل کردیا
ایس ایچ او کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش واقعے کے بارے میں پولیس کو تفصیلات بتائیں اور اپنے دیگر ساتھیوں کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس نے مقدمہ دوبارہ کھول کر تفتیش شروع کردی ہے اور گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
مقدمے کے مدعی کی تلاش بھی جاری ہے، تاہم تاحال پولیس مدعی تک رسائی حاصل نہیں کرسکی۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: بی ایم سی اسپتال سے قتل کا ملزم فرار، 5 پولیس اہلکار معطل
ایس ایچ او کے مطابق مقدمے میں واقعے کے تقریباً ایک سال بعد گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں، تاہم موجودہ گرفتار ملزم مفرور تھا، واقعے کے بعد ملزمان علاقے سے فرار ہوگئے تھے۔
پولیس کے مطابق حالیہ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ مفرور ملزم نے اپنا علاقہ چھوڑ کر روپوشی اختیار کرلی تھی اور کئی سال بعد حلیہ تبدیل کرکے واپس آیا، جس کے باعث اس کی شناخت نہیں ہوسکی۔
39 سال قبل قتل کا واقعہ کیسے پیش آیا؟
ایس ایچ او فہیم شاہ خان کے مطابق 1987 میں درج مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق واقعہ چارسدہ روڈ پر گلبیلہ کے قریب پیش آیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ مسافر سوزوکی گاڑی میں سوار ہو کر جا رہے تھے کہ راستے میں 5 مسلح افراد نے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا۔ گاڑی نہ روکنے پر مسلح افراد نے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 2 افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں ایک 18 سالہ نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس کی کارروائی، اندھے قتل کا ملزم گرفتار
ایس ایچ او کے مطابق گرفتار ملزم ایک ڈکیت گروہ کا رکن تھا جو اسلحے کے زور پر ڈکیتی کی وارداتیں کرتا تھا، جبکہ 1987 کا واقعہ بھی لوٹ مار کی کوشش کے دوران پیش آیا تھا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم نے دوران تفتیش بتایا کہ اس نے ڈکیتی کا کام چھوڑ دیا تھا اور قتل کے واقعے میں مقتول کے اہل خانہ سے اس کی صلح بھی ہوگئی تھی۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اشتہاری اور قانون کو مطلوب تھا، اس لیے اسے عدالت میں پیش کرکے قتل کے مقدمے میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔













