وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کو پوری امت مسلمہ پر حملے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب دفاع حرمین شریفین کے لیے عملی کردار ادا کرنے کا وقت آگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ مدینہ کی حرمت کی حفاظت پاکستان کا ازلی و ابدی عہد ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
وی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سردار محمد یوسف نے وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے مکہ معاہدے پر عملدرآمد کا وقت آنے سے متعلق مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ جب حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کی کوشش ہو تو اس سے بڑھ کر کوئی معاملہ باقی نہیں رہتا۔
انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ مسلمانوں کے لیے محض ایک ’ریڈ لائن‘ نہیں بلکہ اس سے بھی آگے کا معاملہ ہے۔ بیت اللہ شریف اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہیں اور ان مقدس مقامات کے دفاع کی ذمہ داری کسی ایک حکومت نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان معاہدہ اپنی جگہ موجود ہے لیکن اس معاہدے سے ہٹ کر بھی ایک مسلمان کی حیثیت سے پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ دفاع حرمین شریفین کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش سے متعلق سوال پر سردار محمد یوسف نے کہا کہ انہیں اس واقعے پر انتہائی افسوس ہوا۔
انہوں نے کہا کہ یمن بھی ایک مسلم ملک ہے اور وہاں سے مکہ مکرمہ جیسے مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہے۔
مکہ معاہدے اور پاکستان کے ممکنہ عملی کردار سے متعلق سوال پر سردار محمد یوسف نے کہا کہ اگر حرمین شریفین پر حملہ ہوجائے تو اس سے آگے کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔
انہوں نے کہا کہ معاہدہ بھی موجود ہے لیکن معاہدے سے ہٹ کر بھی ایک مسلمان کی حیثیت سے حرمین شریفین کا دفاع لازم ہے۔ ان کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف ایک ذمہ دار وفاقی وزیر ہیں اور ان کے پاس اس معاملے سے متعلق زیادہ معلومات ہوں گی۔
مزید پڑھیے: مکہ مکرمہ پر حملے کی شدید مذمت، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے: دفترِ خارجہ
تاہم انہوں نے کہا کہ عمومی طور پر ان کا اور پوری پاکستانی قوم کا احساس یہی ہے کہ اب دفاع حرمین شریفین کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا وقت آگیا ہے۔
ان کے مطابق اگر کسی رکن ملک کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو دوسرے ممالک بھی اسے اپنے خلاف حملے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ سعودی فرمانروا خادم حرمین شریفین ہیں اور پاکستان کو بھی حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم ذمہ داری اور اعزاز حاصل ہوا ہے۔
ان کے مطابق وزیراعظم نے بھی پاکستان کا مؤقف واضح کیا ہے جبکہ سیاسی اور عسکری قیادت دونوں نے اس سلسلے میں کردار ادا کیا۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ فیلڈ مارشل نے بھی سفارتی سطح پر اس سلسلے میں کوششیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے ایک ایسے امن معاہدے کے لیے کام کیا جس کی موجودہ حالات میں شدید ضرورت تھی۔
ملکی سیاسی معاملات اور نئے صوبوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو مزید صوبوں کی ضرورت ہے اور انہیں یقین ہے کہ صوبہ ہزارہ بھی بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کی تحریک طویل عرصے سے جاری ہے تاہم سنہ 2010 کے بعد یہ متفقہ تحریک بن گئی جس میں پورے ہزارہ کے لوگ شامل ہوئے۔
ان کے مطابق عوام نے بڑھ چڑھ کر تحریک کا ساتھ دیا اور اس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا اسمبلی سے صوبہ ہزارہ کے حق میں 3 مرتبہ قرارداد منظور ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واحد ایسی تحریک ہے جس کی حمایت میں صوبائی اسمبلی ایک نہیں بلکہ تین مرتبہ قرارداد منظور کرچکی ہے۔
مزید پڑھیں: پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ حرمین کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہے، ارکان پارلیمنٹ کی رائے
سردار محمد یوسف کے مطابق آج بھی پورے ہزارہ کے لوگ صوبہ بنانے کے مطالبے پر متفق ہیں، چاہے ان کا تعلق مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، جے یو آئی یا جماعت اسلامی سے ہو۔
انہوں نے کہا کہ سنہ 2010 میں اس تحریک کے دوران کچھ نوجوان شہید بھی ہوئے تھے جس کے بعد پورے ہزارہ نے متفقہ طور پر یہ تحریک چلائی۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ ایک وقت تھا جب تین سے ساڑھے تین کروڑ آبادی کے لیے چار صوبے تھے جبکہ آج ملک کی آبادی تقریباً 25 کروڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی آبادی کے مسائل اور ضروریات کو دیکھتے ہوئے چھوٹے انتظامی یونٹس بنانا ضروری ہے۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ ہزارہ کے لوگوں کو پشاور جانے کے لیے پنجاب سے گزرنا پڑتا ہے اور صوبائی دارالحکومت تک براہ راست رسائی کا مسئلہ بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق اگر کوہستان، بٹگرام یا کاغان سے کوئی شخص معمولی انتظامی کام کے لیے پشاور جائے تو ضروری نہیں کہ اس کا کام اسی روز ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کام میں دو یا تین دن لگ سکتے ہیں جس سے وقت اور پیسہ دونوں خرچ ہوتے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے مؤقف سے متعلق سوال پر سردار محمد یوسف نے کہا کہ سال 2013 کے انتخابات کے لیے پارٹی کے منشور میں صوبہ ہزارہ کا مطالبہ شامل کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ہزارہ جانے والے تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی صوبہ ہزارہ کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جے یو آئی، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اس مطالبے کی عوامی سطح پر حمایت کی ہے۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے کبھی صوبہ ہزارہ کی مخالفت نہیں کی بلکہ بل پیش کیا اور پی ٹی آئی حکومت کو یقین دلایا کہ اگر حکومت اسے آگے لائے گی تو مسلم لیگ ن حمایت کرے گی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس وقت کی پی ٹی آئی حکومت نے معاملہ سرد خانے میں ڈال دیا جس کے بعد مزید پیشرفت نہیں ہوسکی۔
انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مسلم لیگ ن اب بھی اس مطالبے کی حمایت کرے گی کیونکہ پارٹی اس حوالے سے کمٹمنٹ کرچکی ہے اور اسے اپنے منشور کا حصہ بھی بنا چکی ہے۔ ان کے مطابق ملک کو مزید صوبوں کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو سہولت ملے، ان کے مسائل حل ہوں اور گورننس بہتر ہوسکے۔
سردار یوسف نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بھی اس حوالے سے بات ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق کوشش رہی ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے بھی ملاقات ہو اور صوبہ ہزارہ کے حوالے سے ایک وفد ان سے ملے تاہم ابھی ملاقات طے نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ پارلیمانی سیشن میں نئے صوبوں کے معاملے پر بحث ہونی چاہیے۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ بہاولپور، جنوبی پنجاب اور دوسرے علاقوں سے بھی صوبوں کے مطالبات موجود ہیں اور پارلیمان وہ فورم ہے جہاں منتخب نمائندوں کو اس معاملے پر بحث کرنی چاہیے۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی اس لیے پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس معاملے پر مکمل بحث ہونی چاہیے۔
اگلے بجٹ سے پہلے نئے صوبوں کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر ابھی کام شروع ہو تو ایسا ممکن ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی تقاضے کے مطابق جس موجودہ صوبے میں نیا صوبہ بننا ہو وہاں سے بھی قرارداد آنی ضروری ہے۔
سندھ میں نئے صوبوں کے خلاف پیپلز پارٹی کے مؤقف پر سردار محمد یوسف نے کہا کہ ان کے خیال میں نئے صوبے بنانا ملک یا صوبے کی تقس یم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر نئے انتظامی یونٹس بنانے کی بات ہورہی ہے۔
ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے تحفظات موجود ہیں لیکن اگر اسے اعتماد میں لیا جائے اور ملک و قوم کے مفاد میں رابطے کیے جائیں تو اسے بھی اس معاملے پر غور کرنا پڑے گا۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ سندھ کی آبادی بھی بہت زیادہ ہے جبکہ کراچی کے لوگوں کو انتہائی سنگین مسائل درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی منی پاکستان ہے جہاں پورے ملک سے لوگ آباد ہیں جبکہ اندرون سندھ کے عوام کے بھی اپنے مسائل اور ضروریات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس بنانا ان کے مفاد میں بھی ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: مکہ مکرمہ پر ڈرون حملہ پاکستان کے لیے ’سپر ریڈ لائن‘، صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کرسکتی ہے، جنرل (ر) زاہد محمود
سردار محمد یوسف نے کہا کہ صوبوں کی حدود کس طرح بنائی جائیں، اس پر تفصیلی بحث ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق ضروری نہیں کہ موجودہ صوبوں کے نام تبدیل کیے جائیں۔
انہوں نے مثال دی کہ جنوبی سندھ اور شمالی سندھ یا جنوبی پنجاب اور شمالی پنجاب جیسے ناموں پر بھی بات ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق مختلف تجاویز قابل غور ہیں اور نئے انتظامی یونٹس کو صوبے یا ملک کی تقسیم کہنا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہوگا کیونکہ 2 تہائی اکثریت کے بغیر نئے صوبے نہیں بن سکتے۔
حج انتظامات سے متعلق سردار محمد یوسف نے کہا کہ حج کے نظام کو بڑی حد تک ڈیجیٹل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً ساڑھے چار لاکھ افراد نے حج کے لیے رجسٹریشن کرائی تھی۔ ان کے مطابق پاکستان کا حج کوٹہ تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار ہے جس میں تقریباً 40 فیصد نجی اور 60 فیصد سرکاری اسکیم کے تحت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری حج اسکیم کا پورا کوٹہ مکمل ہوگیا۔
سردار محمد یوسف کے مطابق مختصر دورانیے کا حج پیکیج تقریباً 24 گھنٹوں میں بھر گیا جبکہ طویل دورانیے کا پیکیج 7 دن میں مکمل ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ درخواست دینے والے دستیاب کوٹے سے کہیں زیادہ تھے اور اب بھی بہت سے لوگ حج پر جانے کے خواہش مند ہیں۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ گزشتہ حج آپریشن بہت اچھا رہا اور اس مرتبہ بھی عازمین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کی فراہم کردہ ٹائم لائن کے مطابق تمام انتظامات کیے جارہے ہیں۔
ان کے مطابق سعودی حکومت دنیا بھر سے آنے والے حاجیوں کو اللہ کے مہمان سمجھتے ہوئے ان کے لیے انتظامات کرتی ہے۔
ان کے مطابق عازمین کی پہلی قسط موصول ہوچکی ہے، دوسری قسط کے بعد تربیتی عمل بھی ہوگا جبکہ معاونین اور دیگر عملے کے انتخاب کا مرحلہ بھی مکمل کیا جائے گا۔
عمرے کے حوالے سے سردار محمد یوسف نے کہا کہ اس سلسلے میں قانون منظور ہوچکا ہے لیکن وزارت اس کے مکمل طریقہ کار پر ابھی کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حج سال میں مخصوص وقت پر ہوتا ہے لیکن عمرہ پورا سال جاری رہتا ہے اس لیے اس شعبے کے لیے الگ انتظام کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق وزارت مذہبی امور میں ایک مکمل سیکشن قائم کیا جائے گا جو عمرہ آپریٹرز کو ریگولیٹ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ٹور آپریٹرز اپنا کام خود کریں گے لیکن وزارت کو ان کے پیکیجز، سہولیات اور کلائنٹس کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی معلومات ہوں گی۔
وزارت یہ دیکھے گی کہ آپریٹر اپنے وعدوں اور معاہدوں پر پورا اتر رہے ہیں یا نہیں۔
روڈ ٹو مکہ منصوبے سے متعلق سردار محمد یوسف نے کہا کہ یہ سہولت اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر شہروں کو شامل کرنے کا انحصار وہاں سے سفر کرنے والے عازمین کی تعداد پر ہے۔
ان کے مطابق اگر کسی شہر سے مناسب تعداد میں عازمین روانہ ہوں تو سعودی حکام وہاں بھی یہ سہولت فراہم کرسکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: صدر اور وزیر اعظم کی اہم ترین ملاقات، مکہ مکرمہ معاہدے پر مؤثر عملدرآمد کا عزم
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے پشاور اور کوئٹہ کو بھی روڈ ٹو مکہ منصوبے میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم فی الحال اسلام آباد، کراچی اور لاہور اس منصوبے کے 3 بڑے اسٹیشن ہیں۔












