سیم آلٹمین کی زندگی پر مبنی فلم ’آرٹیفیشل‘ لندن فلم فیسٹیول میں پیش

پیر 12 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہالی وڈ اداکار اینڈریو گارفیلڈ نے کہا ہے کہ اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کا کردار ادا کرنے کے لیے انہیں تجسس اور خوف نے متاثر کیا، کیونکہ وہ ان شخصیات کو سمجھنا چاہتے تھے جو دنیا کو مصنوعی ذہانت کے نئے دور میں لے جا رہی ہیں۔

ہدایت کار لوکا گواڈانینو کی فلم ’آرٹیفیشل‘ کا پریمیئر اتوار کو لندن فلم فیسٹیول میں ہوا، فلم میں چیٹ جی پی ٹی کی خالق کمپنی اوپن اے آئی کے قیام، ترقی اور 2023 میں سیم آلٹمین کو عہدے سے ہٹائے جانے اور پھر دوبارہ بحال کیے جانے کے واقعات پیش کیے گئے ہیں۔ کہانی تقریباً 2 دہائیوں پر محیط ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آرٹیفیشل انٹیلی جنس اب ملازمین سے بھی زیادہ مہنگی پڑنے لگی، حیران کن انکشافات

گارفیلڈ نے کہا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان میں حوصلے، تخیل اور مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، کیونکہ انہیں شدید تنقید اور مسلسل نگرانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کے بقول یہ جاننا ضروری ہے کہ طاقت کن کے ہاتھ میں ہے اور کون دنیا کی نئی تشکیل میں کردار ادا کر رہا ہے۔

فلم ’دی سوشل نیٹ ورک‘ میں بھی کام کرنے والے گارفیلڈ نے کردار کی تیاری کے لیے آلٹمین سے ملاقات نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ وہ آلٹمین کو ذاتی طور پر نہیں جانتے اور فلم کو ان کی حقیقی شخصیت کے بجائے ان واقعات کی تخلیقی عکاسی سمجھتے ہیں جن میں ان کا کردار رہا ہے۔

اوپن اے آئی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔ تاہم، آلٹمین نے جریدے ’وینٹی فیئر‘ کو بتایا تھا کہ انہیں فلم میں اپنی زندگی کی درست عکاسی کی توقع نہیں۔

مزید پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی کی حریف آرٹیفیشل انٹیلیجنس ’ارنی بوٹ‘ کس تیزی سے مقبول ہورہی ہے؟

ایمی ایوارڈ یافتہ مصنف سائمن رچ کے تحریر کردہ اسکرین پلے پر مبنی فلم میں روسی اداکار یورا بوریسوف نے اوپن اے آئی کے شریک بانی اور سابق چیف سائنٹسٹ الیا سوتسکیور کا کردار ادا کیا ہے۔

مارک رائلنس نے مصنوعی ذہانت کے معروف ماہر جیفری ہنٹن، جبکہ آئیک بارین ہولٹز نے ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کا کردار ادا کیا ہے۔

مونیکا باربارو اوپن اے آئی کی سابق چیف ٹیکنالوجی آفیسر میرا موراتی کے روپ میں نظر آئیں گی۔

مزید پڑھیں: عالمی معیشت کے لیے مصنوعی ذہانت ناگزیر ہے، سیم آلٹمین

2025 میں شوٹ کی گئی اس فلم کی نمائش ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

اوپن اے آئی اور اینتھروپک سے متعلق حالیہ واقعات نے خدشات کو جنم دیا ہے کہ خودمختار اے آئی نظام مستقبل میں انسانی کنٹرول سے باہر ہو سکتے ہیں۔

مونیکا باربارو نے کہا کہ اس موضوع پر فلم بنانا دلچسپ بھی ہے اور مشکل بھی، کیونکہ فلم میں دکھائی جانے والی شخصیات کے درمیان حقیقی وقت میں سوشل میڈیا پر ہونے والی بحثیں بھی سامنے آتی رہیں، جبکہ اس تیزی سے بدلتے شعبے میں حقائق ہر ماہ تبدیل ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp