سینیٹ کا اجلاس آج بدھ کو شام 4 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا، جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدر مملکت کے اعلان کی توثیق سمیت اہم آئینی اور قانون سازی کے امور زیر غور آئیں گے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری سے متعلق قرارداد پیش کرنے کے علاوہ صدر مملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر اظہار تشکر کی تحریک پر بحث کا آغاز بھی کریں گے۔
سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ 13 نکاتی ایجنڈے کے مطابق ڈاکٹر طارق فضل چوہدری آئین کے آرٹیکل 232 کی شق (1) کے تحت صدر مملکت کی جانب سے 11 اکتوبر 2026 کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق جاری کردہ اعلان ایوان میں پیش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے پر ایمرجنسی کا فیصلہ کیا، اعظم نذیر تارڑ
وہ اس اعلان کی باضابطہ منظوری کے لیے قرارداد بھی پیش کریں گے، جس میں سینیٹ سے ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اجلاس میں 2 مارچ 2026 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر پاکستان کے خطاب پر شکریے کی تحریک پر بحث بھی شروع ہوگی، جس کا آغاز وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کریں گے۔
ایجنڈے میں مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس پیش کرنے کے امور بھی شامل ہیں، سینیٹر کامل علی آغا پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل 2026ء، سینیٹر سلیم مانڈوی والا غیر ملکی سرمایہ کاری (فروغ و تحفظ) (ترمیمی) بل 2026ء، جبکہ سینیٹر رانا محمود الحسن پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کے لیے ضابطہ جاتی فریم ورک کی فراہمی سے متعلق بل پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کریں گے۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں آئینی ایمرجنسی کے نفاذ کا خیرمقدم، گورنر اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی حمایت
اسی طرح سینیٹر عامر ولی الدین چشتی الیکٹرانک نکوٹین کی ترسیل کے نظام اور متعلقہ مصنوعات سے متعلق ترمیمی بل 2025ء پر رپورٹ پیش کریں گے۔
سینیٹر فیصل سلیم رحمان اسلام آباد تحفظ صارفین (ترمیمی) بل 2026ء اور مجموعہ تعزیرات پاکستان و ضابطہ فوجداری (ترمیمی) بل 2026ء سے متعلق رپورٹس بھی ایوان کے سامنے رکھیں گے۔
سینیٹ کے اجلاس میں عوامی اہمیت کے مختلف معاملات پر توجہ دلاؤ نوٹسز بھی پیش کیے جائیں گے، سینیٹر دنیش کمار متروکہ وقف املاک بورڈ کی ازسرنو تشکیل میں بلوچستان سے کسی غیر سرکاری رکن کو شامل نہ کیے جانے کے معاملے پر وزیر برائے مذہبی امور کی توجہ مبذول کرائیں گے۔
دوسری جانب سینیٹر جان محمد بلوچستان کے اضلاع رخشان اور مکران کے رہائشیوں کے قومی شناختی کارڈز مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر بلاک کیے جانے کا معاملہ وزیر داخلہ کے سامنے اٹھائیں گے۔














