میرپورخاص میں میڈیکل طالبہ کی مبینہ خودکشی کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جس میں مرکزی ملزم کو عدالت نے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرپورخاص: میڈیکل طالبہ کی خودکشی، ہراسانی کے الزامات پر انکوائری کا حکم
تفصیلات کے مطابق ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے اسے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم ایک نجی میڈیکل کالج میں فارمیسی لیکچرار کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔
دوسری جانب طالبہ کی موت سے متعلق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی سامنے آ گئی ہے۔
مزید پڑھیے: میرپورخاص: میڈیکل طالبہ کی مبینہ خودکشی، پی ایم ڈی سی کا اظہارِ تشویش
رپورٹ کے مطابق طالبہ کو سینے کے بائیں جانب گولی لگی جو دل کو نقصان پہنچاتے ہوئے جسم کے پار نکل گئی۔
طبی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گولی لگنے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد طالبہ کی موت واقع ہوئی۔
مزید پڑھیں: بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ کا گرلز ہاسٹل میں قتل
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں میرپور خاص کے سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقے میں طالبہ کی موت کا واقعہ پیش آیا تھا جس کے بعد اہلخانہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا تھا۔
ابن سینا یونیورسٹی سے وابستہ محمد میڈیکل کالج میں تیسرے سال کی طالبہ فہمیدہ لغاری نے مبینہ طور پر اپنے والد کے پستول سے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد سندھ حکومت نے ایک پروفیسر کی جانب سے مبینہ ہراسانی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کا حکم دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت، ایم بی اے طالبہ کے قتل کا لرزہ خیز واقعہ، ملزم گرفتار
اہلخانہ کے مطابق فہمیدہ لغاری مبینہ طور پر ایک فیکلٹی ممبر کی جانب سے ہراسانی کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں جو گزشتہ روز اس سانحے کی سبب بنا۔














