کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں نے نینو ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ایسا ننھا ’ڈرگ فیکٹری‘ سسٹم تیار کیا ہے جو زندہ خلیوں کے اندر دوا بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب: ریاض میٹرو کا سب سے بڑا ویسٹرن اسٹیشن مکمل طور پر فعال
جدہ سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق محققین نے نہایت باریک نینو ذرات تیار کیے ہیں جو چھ مختلف پروٹینز کو زندہ خلیوں کے اندر پہنچا سکتے ہیں۔ یہ پروٹینز مل کر وائلیسین نامی ایک بایو ایکٹو مرکب تیار کرتے ہیں جس پر علاجی مقاصد کے لیے تحقیق جاری ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ تحقیق حال ہی میں سائنسی جریدے ایڈوانسڈ میٹیریلز میں شائع ہوئی جس میں نینو ٹیکنالوجی، میٹیریلز سائنس اور بایو انجینیئرنگ کو یکجا کیا گیا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ایسی ادویات بنانے میں مدد دے سکتی ہے جو جسم کے اندر صرف متاثرہ حصے میں تیار ہوں، جس سے صحت مند ٹشوز پر منفی اثرات کم کیے جا سکیں گے۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے 6 پروٹینز کو خاص قسم کے اسفنج نما ذرات میں بند کیا جنہیں ’میٹل آرگینک فریم ورکس‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ذرات مصنوعی عضویات کی طرح کام کرتے ہیں اور زندہ خلیوں کے اندر جا کر حیاتیاتی عمل انجام دیتے ہیں۔
محققین کے مطابق خلیوں کے اندر پہنچنے کے بعد یہ پروٹینز متحرک رہے اور مرحلہ وار ایک سادہ امائنو ایسڈ کو وائلیسین میں تبدیل کرتے رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اب تک کا سب سے پیچیدہ ملٹی پروٹین سسٹم ہے جسے کامیابی سے زندہ خلیوں میں منتقل کیا گیا۔
مزید پڑھیے: سعودی طلبا نے ریاضی اولمپیاڈ میں 2 طلائی تمغے جیت لیے
رائیک گرونبرگ نے کہا کہ یہ منصوبہ ابتدا میں ایک بڑا اور مشکل ہدف محسوس ہوتا تھا کیونکہ عام طور پر ایک یا دو پروٹینز کو خلیوں میں پہنچانا ہی انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح نوین خشاب نے بتایا کہ ابتدائی مراحل میں روایتی مواد کی وجہ سے پروٹینز اپنی فعالیت کھو دیتے تھے تاہم زیادہ مسام دار اور اسفنج نما ڈھانچہ تیار کرکے اس مسئلے کو حل کر لیا گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم کو مستقبل میں مختلف بیماریوں کے مطابق ڈھالا جا سکے گا تاکہ ’پروگرام ایبل‘ علاج تیار کیے جا سکیں۔
اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور طبی استعمال سے پہلے مزید تجربات درکار ہیں تاہم ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت مستقبل میں ایسی ادویات کی راہ ہموار کر سکتی ہے جو براہِ راست بیمار ٹشوز کے اندر تیار ہوں اور جسم کے دوسرے حصوں پر کم مضر اثرات ڈالیں۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب میں ہجرتی پرندوں کے تحفظ کی کوششیں
تحقیقی ٹیم اب اس نظام کو جانوروں پر آزمانے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ اس کی علاج کرنے صلاحیت کا مزید جائزہ لیا جا سکے۔














