وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کالعدم تنظیموں کو قربانی کے جانوروں کی کھالیں دینے پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عید الاضحیٰ: پشاور میں باربی کیو کی تیاریوں کے منفرد انداز
یہ بات میر سرفراز بگٹی نے عیدالاضحیٰ کے موقعے پر صوبے بھر میں سیکیورٹی، صفائی کی مجموعی صورتحال اور قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو ٹھکانے لگانے سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
اجلاس میں چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان، آئی جی پولیس بلوچستان اور ڈویژنل کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جبکہ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن، ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ اور صفا کوئٹہ کے سی ای او بھی شریک ہوئے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ عیدالاضحیٰ کے دوران کوئٹہ شہر کے 5 زونز میں 15 کولیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں جبکہ 3 روز میں 4 ہزار 294 ٹن کچرا متوقع ہے۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد پولیس کا عیدالاضحیٰ کے لیے سخت سیکیورٹی پلان جاری
بریفنگ میں ی بھی بتایا گیا کہ کچرا اٹھانے اور آلائشوں کو بروقت ٹھکانے لگانے کے لیے 9500 چھوٹی بڑی مشینری تیار کر لی گئی ہے اور آپریشن پلان کی منظوری دے دی گئی ہے۔ تمام ڈویژنل اور ضلعی ہیڈکوارٹرز میں بھی مشینری کرائے پر لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ کوئٹہ میں 54 بڑی عید گاہوں اور مساجد میں نماز عید کے اجتماعات ہوں گے جن کے لیے سیکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جبکہ صورتحال کی نگرانی کے لیے خصوصی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔ صفا کوئٹہ کی ٹیمیں شہر کے 15 متعین مقامات سے قربانی کے جانوروں کی آلائشیں جمع کریں گی۔
مزید پڑھیں: سندھ والوں کی ایک چھٹی ’قربان‘، عیدالاضحیٰ کی تعطیلات اچانک کم کر دی گئیں
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ عیدالاضحیٰ کے دوران صفائی، آلائشوں کی بروقت تلفی اور عوامی آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
انہوں نے ڈویژنل کمشنرز، ڈی آئی جیز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کو باہمی رابطہ کاری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے بھر خصوصاً ضلعی ہیڈکوارٹرز میں عید گاہوں اور مساجد کی سیکیورٹی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔
یہ بھی پڑھیے: عید الاضحیٰ پر اجتماعی قربانیوں میں اضافہ، لیدر انڈسٹری کے لیے خام مال کا بحران بڑھنے کا خدشہ
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ سمیت بڑے شہروں میں صفائی اور انتظامات کے حوالے سے واضح اور مثبت تبدیلی نظر آنی چاہیے جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز مساجد اور عید گاہوں کے اسپیکرز کے ذریعے عوام سے صفائی مہم میں تعاون کی اپیل کریں۔












