صوبوں کی جانب سے 1035 ارب روپے کی گرانٹس بڑی قومی خدمت ہے، پاکستان نے خطے میں امن کے لیے تاریخی کردار ادا کیا، اسحاق ڈار

بدھ 24 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چاروں صوبوں کی جانب سے وفاقی حکومت کو گرانٹس کی فراہمی قابلِ تحسین اقدام ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت کے لیے 1035 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کے استحکام اور مالی نظم و ضبط کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ چاروں صوبائی حکومتوں نے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاق کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے، جو بین الحکومتی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔ ان کے بقول اقتصادی پالیسیوں کی کامیابی کے لیے ٹیم ورک، باہمی اعتماد اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں:اسرائیلی حملوں نے امریکا ایران مذاکرات کو پٹڑی سے اتار دیا تھا، اسحاق ڈار کا العربیہ کو انٹرویو

انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے ریونیو کلیکشن کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ مالی منصوبہ بندی 13 ہزار 350 ارب روپے کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے۔ اضافی مالی وسائل کو ترقیاتی منصوبوں، آبی ذخائر، قومی سلامتی اور دفاعی ضروریات سمیت دیگر ترجیحی شعبوں پر خرچ کیا جائے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں پانی، سیکیورٹی اور دفاعی ضروریات کو خصوصی اہمیت دی ہے، جبکہ قومی تقاضوں کے مطابق بعض شعبوں کے لیے اضافی وسائل بھی مختص کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مالی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم اور وسائل کے مؤثر استعمال سے معاشی استحکام کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے اپنی تقریر میں خارجہ پالیسی اور علاقائی صورتحال کا بھی تفصیلی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان نے ابتدا ہی سے تحمل، مذاکرات اور سفارتکاری کی حمایت کی۔ پاکستان نے تمام فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے رکھے اور تنازع کے پرامن حل کے لیے فعال کردار ادا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران سیزفائر اور کشیدگی میں کمی کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رہیں۔ پاکستان نے ایران، امریکا، قطر اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے اور دونوں جانب مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔

اسحاق ڈار کے مطابق اعلیٰ سطح مذاکرات کے متعدد ادوار منعقد ہوئے جن میں 6 باضابطہ راؤنڈز شامل تھے۔ بعض مذاکراتی سیشن 21 گھنٹے تک جاری رہے اور دوپہر سے شروع ہو کر اگلے روز فجر تک چلتے رہے۔ مختلف مراحل پر وقفے لے کر مشاورت کا عمل آگے بڑھایا گیا تاکہ تمام نکات پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں:اسحاق ڈار سے چینی سفیر کی ملاقات، امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو سراہا

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مذاکراتی عمل میں ایمانداری، رازداری اور غیر جانب داری کو برقرار رکھا۔ وزارت خارجہ، سفارتی ٹیم، سیکیورٹی اداروں اور عسکری قیادت نے باہمی تعاون سے اس عمل کی نگرانی کی جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور قومی قیادت نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے مختلف عالمی رہنماؤں، امریکی اور ایرانی حکام سمیت متعدد ممالک کی قیادت کے ساتھ رابطے کیے۔ جی سیون اجلاس کے موقع پر بھی اہم سفارتی مشاورت ہوئی جس سے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملی۔

انہوں نے کہا کہ 18 جون کی رات مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آئی جبکہ 19 جون کو بعض معاملات کو حتمی شکل دی گئی۔ بعد ازاں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکراتی عمل اور مفاہمتی اقدامات کے ذریعے فریقین کو مزید قریب لایا گیا۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان، قطر، ایران اور امریکا کے درمیان مسلسل رابطے برقرار رہے اور چار فریقی سفارتی مشاورت کے ذریعے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا گیا۔ قطر نے بھی اس سلسلے میں مؤثر معاونت فراہم کی اور مختلف تجاویز پر پیش رفت میں مددگار کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ 22 جون کو جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں آئندہ کے روڈ میپ اور مستقبل کے اقدامات کا تعین کیا گیا۔ اعلامیے کو عالمی برادری کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ نے اس دستاویز کو عوامی معلومات کے لیے اپنی ویب سائٹ پر بھی جاری کیا۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ وہ علاقائی اور عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا قرار دینے کا تاثر غلط ثابت ہوا ہے اور ملک نے سفارت کاری کے ذریعے اپنی اہمیت منوائی ہے۔

مزید پڑھیں: اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ملاقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے 2 متحارب فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور 47 سال بعد سامنے آنے والی اہم سفارتی پیشرفت خطے کے امن کے لیے بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو 24 کروڑ پاکستانی عوام، قومی قیادت، پاک فوج، وزارت خارجہ اور سفارتی ٹیم کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ قرار دیا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی علاقائی امن، استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنا فعال اور ذمہ دارانہ کردار جاری رکھے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں عالمی سفارتی فورمز پر انتہائی فعال اور متحرک کردار ادا کیا ہے۔ جی-7 سمیت مختلف اہم بین الاقوامی اجلاسوں میں پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا اور عالمی برادری کو خطے میں امن، استحکام اور سفارت کاری کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بعض مواقع پر حکومت نے جان بوجھ کر چند بین الاقوامی اجلاسوں میں اپنی شرکت محدود رکھی تاکہ پاکستان اپنی غیر جانبدارانہ اور ثالثی کی پوزیشن برقرار رکھ سکے۔ ان کے بقول جب کوئی ملک مصالحت کار کا کردار ادا کر رہا ہو تو اسے بعض معاملات میں فریق بننے سے گریز کرنا پڑتا ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں سیزفائر اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ مختلف مسلم ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے پاکستان نے مسلسل رابطوں اور مشاورت کا راستہ اختیار کیا۔

انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت نے کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے جو کردار ادا کیا، اس سے ہزاروں انسانی جانوں کے تحفظ میں مدد ملی۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت کی مشترکہ کاوشوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی اہم بیٹھک، اسحاق ڈار قاہرہ روانہ

اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو مثبت انداز میں تسلیم کیا جا رہا ہے اور یہ تاثر بھی ختم ہوا ہے کہ پاکستان سفارتی طور پر تنہا ہے۔ متعدد ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں نے پاکستان کے متوازن مؤقف اور امن دوست پالیسی کو سراہا ہے۔

انہوں نے معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ مہنگائی اور معاشی دباؤ میں کمی کا رجحان سامنے آیا ہے جبکہ بیرونی مالی رکاوٹوں میں بھی بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے، جس سے سرمایہ کاری، تجارت اور بین الاقوامی روابط کے فروغ میں مدد ملے گی۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ چین کے وزیر خارجہ کی دعوت پر ہونے والی ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور سفارتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر کشیدگی میں کمی اور امن کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین نے خطے میں استحکام کے لیے ایک پانچ نکاتی سفارتی فریم ورک پر بھی گفتگو کی، جس میں مذاکرات، تحمل، بین الاقوامی قوانین کے احترام اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا گیا۔ اس منصوبے کو مختلف ممالک کی جانب سے مثبت پذیرائی حاصل ہوئی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات میں ثالث اور سہولت کار کے کردار کو ترجیح دی ہے۔ اسی پالیسی کے تحت پاکستان نے غیر جانبداری برقرار رکھتے ہوئے مختلف فریقوں کو قریب لانے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی اہم بیٹھک، اسحاق ڈار قاہرہ روانہ

انہوں نے بتایا کہ 51 ممالک کے ایک اہم سفارتی اجلاس میں بھی پاکستان نے محتاط، متوازن اور ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کیا۔ کئی یورپی ممالک سمیت مختلف عالمی شراکت داروں نے پاکستان کے سفارتی کردار اور امن کے لیے اس کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کا مشترکہ سفارتی وژن خطے میں امن، ترقی اور باہمی احترام کے اصولوں پر مبنی ہے۔ پاکستان مستقبل میں بھی عالمی سفارت کاری میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے تنازعات کے پرامن حل، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسحاق ڈار کی زیرصدارت اجلاس، اقتصادی سفارت کاری، بین الوزارتی رابطوں اور سفارتی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے پر زور

جیفری ایپسٹین کی آخری کال وصول کرنے والی گرل فرینڈ کرینا شُلیاک، اربوں کی جائیداد کی ممکنہ وارث

چیٹ بوٹ کلاڈ کا نیا ’کارنامہ‘: سینکڑوں صارفین کی نجی گفتگو سرچ انجنز پر لیک ہوگئیں

وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی کانگریس کے وفد کی ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

اٹارنی جنرل منصور اعوان کے گھر پولیس کا چھاپہ، ایس ایچ او سمیت 11 اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج

ویڈیو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے اچھی بات چیت کا اعتراف، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، بلاول بھٹو

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی