افغانستان کی طالبان حکومت نے سرکاری اداروں میں کام کرنے والے تمام فوجی اور سول ملازمین کے لیے اسمارٹ فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے جس کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے معلومات تک رسائی مزید محدود ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر یورپ کی تشویش میں اضافہ، طالبان پر شدید عالمی دباؤ
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک فوجی عدالت کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 16 جون سے تمام فوجی و سول اداروں کے اہلکاروں، ججوں اور دیگر سرکاری عہدیداروں کے لیے اسمارٹ فون کا استعمال ممنوع ہوگا۔
حکم نامے کے مطابق پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے موبائل فون ضبط کر کے توڑ دیے جائیں گے جبکہ متعلقہ قوانین کے تحت ان کے خلاف کارروائی بھی کی جائے گی۔
طالبان حکومت نے اس معاملے پر باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا، تاہم افغان میڈیا ادارے کابل ٹریبیون کے مطابق وزارتِ مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اسمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔
وزارت نے 18 جون کو جاری ایک بیان میں کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس اور وزیر مواصلات عبدالاحد فاضلی سے منسوب بیانات بے بنیاد ہیں اور ان کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں۔
دوسری جانب سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ پابندی کے باعث دفتری امور شدید متاثر ہوئے ہیں کیونکہ بیشتر سرکاری رابطے موبائل فون، واٹس ایپ اور ای میل کے ذریعے انجام دیے جاتے تھے۔
ایک سرکاری ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس فیصلے کے بعد کئی انتظامی امور عملاً تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔
پنج شیر صوبے کے گورنر نے بھی ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ صوبے کے تمام سرکاری دفاتر میں اس پابندی کا فوری نفاذ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: افغانستان سے ابھرنے والے دہشتگردی کے خطرات پر پاکستان اور روس میں اہم مشاورت
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اسمارٹ فون اب صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ تعلیم، معلومات تک رسائی، نجی مواصلات اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے کا اہم ذریعہ بھی ہے۔
حقوقِ نسواں کی سرگرم کارکن صنم کبیری نے کہا کہ آج کے دور میں اسمارٹ فون محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہا، اس لیے سرکاری دفاتر میں اس کے استعمال پر پابندی یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ مقصد صرف نظم و ضبط قائم رکھنا نہیں بلکہ معلومات اور رابطے تک رسائی کو محدود کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی فوجی سازوسامان واپس لے سکتے ہیں، ٹرمپ
واضح رہے کہ طالبان کے اگست 2021 میں اقتدار میں واپس آنے کے بعد خواتین، میڈیا اور سول سوسائٹی پر متعدد پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی برقرار ہے جبکہ متعدد خواتین کو ملازمتوں سے بھی محروم کیا جا چکا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں نے اس دوران دھمکیوں، گرفتاریوں اور سنسرشپ کے واقعات کی بھی نشاندہی کی ہے۔














