گارجین رپورٹ: کیا ایران امریکا معاہدہ بچانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو لگام دیں گے؟

جمعرات 25 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تجزیہ کاروں، سابق امریکی حکام اور سفارت کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کا سب سے بڑا سیاسی نقصان شاید اسرائیل کی ایران پالیسی نہیں بلکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کی وہ سیاسی ساکھ ہو سکتی ہے جو انہوں نے برسوں میں اس دعوے کے ذریعے بنائی کہ وہی واحد اسرائیلی رہنما ہیں جو واشنگٹن کو ایران کے معاملے پر اپنی مرضی کے مطابق قائل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا معاہدہ: کیا نیتن یاہو سب سے بڑے سیاسی نقصان اٹھانے والے ثابت ہوں گے؟

گارجین کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اپنی سیاسی شناخت اس مؤقف پر استوار کی تھی کہ وہ امریکا اور اسرائیل کو ایران کے خلاف ایک ہی صف میں رکھ سکتے ہیں۔

ریپبلکن حلقوں میں اثر و رسوخ بڑھاتے ہوئے انہوں نے خود کو ایسا رہنما ثابت کرنے کی کوشش کی جو امریکی صدور کی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکے اور مسلسل یہ مؤقف اپنایا کہ ایران کو صرف فوجی دباؤ کے ذریعے ہی قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

سفارتی حلقوں میں انہیں ایک وقت میں ’امریکن وسپرر‘ کہا جاتا تھا، یعنی ایسا اسرائیلی رہنما جو براہِ راست واشنگٹن کی حکمت عملی پر اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ انہوں نے امریکی کانگریس سے متعدد بار خطاب کیا اور امریکی سیاسی نظام میں مضبوط روابط قائم کیے۔

تاہم مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے حالیہ معاہدے نے اس تاثر کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ نیتن یاہو واشنگٹن کی ایران پالیسی کو تشکیل دینے کے بجائے خود اسے قبول کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے سیاسی تصفیے کے خواہاں ہیں جس میں اسرائیلی اعتراضات کو فیصلہ کن حیثیت حاصل نہیں۔

مزید پڑھیے: ٹرمپ ایران معاہدہ: نیتن یاہو کے لیے سب سے تشویشناک لمحہ، سی این این کی رپورٹ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کو داخلی سطح پر بھی مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ سابق امریکی عہدیدار ڈینس راس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم ایک طرف جنگ کے خاتمے کے خواہاں امریکی صدر اور دوسری طرف سخت مؤقف رکھنے والے اپنے سیاسی حامیوں کے درمیان پھنس چکے ہیں، خصوصاً لبنان کے معاملے پر۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر نیتن یاہو پسپائی اختیار کرتے ہیں تو انہیں سیاسی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ محاذ آرائی جاری رکھنے کی صورت میں واشنگٹن کے ساتھ اختلافات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف وہ جنگ جسے نیتن یاہو اپنی سیاسی میراث مضبوط بنانے کا ذریعہ سمجھتے تھے اب ان کے لیے الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تنہائی، قریبی اتحادی امریکا کی ناراضی اور آئندہ انتخابات کے تناظر میں سیاسی دباؤ نے ان کی پوزیشن کمزور کر دی ہے۔

نیتن یاہو کے سابق مشیر ایویو بشنسکی نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

ان کے بقول نہ صرف وہ ایران کے خلاف جنگ میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے بلکہ وہ ٹرمپ جیسے اہم اتحادی کی حمایت بھی کھوتے دکھائی دیتے ہیں۔‘

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں اور ایران کے خلاف کارروائیوں میں اسرائیلی افواج نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اسرائیل کی سلامتی کے لیے اپنی حمایت کو غیر متزلزل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کا یہ مؤقف تبدیل نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں: جنگ چھیڑی تو اسرائیل تنہا رہ جائے گا، ٹرمپ کا نیتن یاہو کو سخت انتباہ

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات محض ذاتی نوعیت کے نہیں بلکہ دونوں کی ترجیحات میں واضح فرق موجود ہے۔ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں ایک اور طویل جنگ سے بچنا چاہتے ہیں جبکہ نیتن یاہو ایران اور اس کے اتحادی گروہوں پر دباؤ برقرار رکھنے کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔

امریکا نے حالیہ مہینوں میں ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کیے، لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے تنازع کو وسیع تر سفارتی فریم ورک کا حصہ بنایا اور جنگ بندی کے نفاذ کے لیے مختلف طریقہ کار بھی متعارف کرائے، جس سے بعض مبصرین کے مطابق اسرائیل کا کردار نسبتاً محدود ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی حالیہ دنوں میں ایران معاہدے پر اسرائیلی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو اپنے واحد طاقتور اتحادی امریکا کے ساتھ تعلقات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔

ادھر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ نیتن یاہو کو کوئی ہدایت دیتے ہیں تو وہ اس پر عمل کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: نیتن یاہو کو اوقات یاد دلادی گئی: امریکا کے بغیر اسرائیل کا وجود ہی نہ رہتا، ڈونلڈ ٹرمپ

مبصرین کے مطابق نیتن یاہو نے برسوں تک ریپبلکن حمایت کو اپنی سفارتی طاقت کے طور پر استعمال کیا تاہم اب ریپبلکن قیادت بھی ٹرمپ کے مقابلے میں نیتن یاہو کا ساتھ دینے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنی سیاسی حکمت عملی 2 بڑے اہداف پر قائم کی تھی: ایران کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنا اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لا کر ابراہم معاہدوں کو وسعت دینا۔ تاہم موجودہ حالات میں دونوں مقاصد مکمل ہوتے نظر نہیں آتے۔

خلیجی ذرائع کے مطابق غزہ جنگ اور خطے کی بدلتی صورت حال کے باعث بعض عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل میں احتیاط برت رہے ہیں جبکہ ایران کے ساتھ سفارتی روابط بڑھانے کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔

مزید پڑھیں: نیتن یاہو نہیں، فیصلے میں کرتا ہوں؛ اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران سے معاہدہ قریب ہے، ٹرمپ

اسی تناظر میں بعض مبصرین کا خیال ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوگا کہ آیا ٹرمپ اسرائیل کو لبنان اور خطے کے دیگر تنازعات میں مزید کشیدگی بڑھانے سے روک پاتے ہیں یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی رابطہ قائم کرنے پر اتفاق ہوگیا، جے ڈی وینس

آزاد کشمیر انتخابات کے لیے مزید 5 امیدواروں کو مسلم لیگ ن کے ٹکٹ جاری

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

آئی بی ایم کا نیا کارنامہ: 100 ارب ٹرانزسٹرز کی گنجائش والی ناخن جتنی چپ

پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان تیزی سے بڑھنے لگا، 3 ماہ میں کتنی ٹرانزیکشنز ہوئیں؟

ویڈیو

آزاد کشمیر انتخابات: کون سے بڑے سیاسی کھلاڑی میدان میں ہوں گے؟

’پاکستان نے بطور ثالث دنیا میں امن پسندی کو تقویت دی‘، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

پاکستان اور کشمیر کا رشتہ مضبوط، تاریخی اور ناقابل تنسیخ، کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائےگا، سردار عتیق

کالم / تجزیہ

تجھے کون بچائے گا کالیا؟

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا