شدید گرمی اور ہیٹ ویوز کے دوران جہاں انسانوں کے لیے احتیاط ضروری ہوتی ہے وہیں پالتو جانور خصوصاً کتے بھی شدید گرمی کے اثرات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس میں شدید گرمی سے اموات میں خطرناک اضافہ، مردہ خانوں میں جگہ کم پڑ گئی
ماہرین حیوانات کے مطابق کتے گرمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں، جلنے والی سطحوں اور ہیٹ اسٹروک کا شکار ہو سکتے ہیں یہاں تک کہ ایسے درجہ حرارت میں بھی جو انسانوں کو زیادہ خطرناک محسوس نہ ہو۔
ماہرین نے گرمی کے موسم میں کتوں اور دیگر پالتو جانوروں کو محفوظ رکھنے کے لیے چند اہم تجاویز دی ہیں۔
درجہ حرارت میں اچانک اضافے سے محتاط رہیں
ویٹرنری ماہرین کے مطابق پالتو جانوروں میں ہیٹ اسٹروک کے کیسز عموماً موسمِ بہار کے اختتام اور گرمیوں کے آغاز میں بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرِ حیوانات ڈاکٹر امانڈا کیوانا کے مطابق بہت زیادہ گرمی نہ ہونے کے باوجود بھی جانور ہیٹ اسٹروک کا شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ سردیوں میں کم جسمانی سرگرمی اور گرمی کے ماحول سے عدم مطابقت ان کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔
اپنے پالتو جانور کے خطرے کے عوامل کو سمجھیں
تمام کتے گرمی کو ایک جیسا برداشت نہیں کر سکتے۔ تحقیقی مطالعات کے مطابق چھوٹی ناک والے یا ’بریکی سیفالک‘ نسل کے کتے، جیسے بل ڈاگ، فرنچ بل ڈاگ اور پَگ گرمی سے متاثر ہونے کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ ان نسلوں کے کتوں میں ہیٹ اسٹروک کا خطرہ لمبی ناک والے کتوں کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ پایا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: دنیا کے بیشتر حصوں میں شدید گرمی کے باوجود امریکا میں برفباری کا امکان، وارننگ جاری
ماہرین کے مطابق ان کتوں کی سانس کی نالیاں نسبتاً محدود ہوتی ہیں جس کی وجہ سے وہ ہانپنے کے ذریعے جسمانی حرارت مؤثر انداز میں خارج نہیں کر پاتے۔
اسی طرح زیادہ وزن والے پالتو جانور بھی گرمی کے دوران زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
گرمی میں باہر نکلتے وقت احتیاط کریں
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ گرمی کے موسم میں کتوں کو صبح سویرے یا شام کے وقت باہر لے جایا جائے جبکہ دن کے گرم ترین اوقات میں انہیں باہر لے جانے سے گریز کیا جائے۔
تقریباً 25 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت اور زیادہ نمی کے ماحول میں کتوں کے لیے جسمانی حرارت خارج کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
باہر جاتے وقت اپنے پالتو جانور کے لیے پانی ساتھ رکھنا چاہیے اور جہاں ممکن ہو سایہ دار مقامات کا انتخاب کرنا چاہیے۔
گرم فرش اور سڑکوں سے بچائیں
اگر زمین یا سڑک اتنی گرم ہو کہ آپ اپنا ہاتھ اس پر 30 سیکنڈ تک نہ رکھ سکیں تو امکان ہے کہ وہ آپ کے پالتو جانور کے پنجوں کو بھی جلا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گرمیوں میں کتوں کے پنجوں کے جلنے کے متعدد کیسز سامنے آتے ہیں اس لیے انہیں گھاس، مٹی یا نسبتاً ٹھنڈی سطحوں پر چلانا بہتر ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: یورپ میں شدید گرمی کی لہر سے 1,300 سے زائد اموات، عالمی ادارۂ صحت کا انتباہ
ضرورت پڑنے پر جانوروں کے لیے خصوصی حفاظتی جوتے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ٹھنڈا رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کریں
اگر آپ کا پالتو جانور گرمی محسوس کر رہا ہو، تو اسے ٹھنڈے پانی سے نہلانا یا اس کے جسم پر ٹھنڈا پانی ڈالنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ ٹھنڈا پانی یا برف استعمال نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے خون کی نالیاں سکڑ سکتی ہیں اور جسم سے حرارت کے اخراج کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
جانوروں کے لیے مناسب سن اسکرین کا استعمال بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان حصوں پر جہاں بال کم ہوں، جیسے ناک اور کان۔
ہیٹ اسٹروک کی علامات کو پہچانیں
ہیٹ اسٹروک کی ابتدائی علامات میں شدید ہانپنا، سانس لینے میں دشواری، کمزوری، لڑکھڑانا اور ذہنی الجھن شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ’ہم بھی فیشن کریں گے‘، ادیداس نے پالتو جانوروں کی سن لی، ماڈرن کلیکشن متعارف
ماہرین کے مطابق اگر کتے کے مسوڑھوں کا رنگ گہرا سرخ ہو جائے یا جانور غیر معمولی طور پر کمزور محسوس ہو، تو فوری طور پر ویٹرنری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
ہیٹ اسٹروک جانوروں کے گردوں، دماغ، خون اور دیگر اہم اعضا کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اس لیے فوری طبی امداد انتہائی ضروری ہے۔
بلیاں نسبتاً محفوظ، لیکن مکمل طور پر نہیں
ماہرین کے مطابق بلیاں عموماً گرمی سے بچنے میں کتوں کے مقابلے میں بہتر صلاحیت رکھتی ہیں کیونکہ وہ خود کو زیادہ گرمی سے بچانے کے لیے اپنی سرگرمیاں محدود کر دیتی ہیں۔
تاہم بلیاں بھی بند اور گرم جگہوں، جیسے شیڈ، گرین ہاؤس یا ڈرائر میں پھنسنے کی صورت میں ہیٹ اسٹروک کا شکار ہو سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: نیویارک میں پالتو جانوروں کا کھانا چرانے والا نقاب پوش ریکون نکلا
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کے موسم میں پالتو جانوروں کی حفاظت کے لیے ان کے رویے، جسمانی حالت اور ماحول پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے کیونکہ بروقت احتیاط کسی بھی سنگین صورتحال سے بچا سکتی ہے۔














