123 سال پرانا ایئر کنڈیشننگ سسٹم آج کی شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے کیا سبق دیتا ہے؟

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہریں مزید خطرناک ہوتی جا رہی ہیں ایسے میں ایئر کنڈیشنر کمزور اور حساس افراد کے لیے زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ بجلی کی زیادہ کھپت، اخراجات اور ماحولیاتی اثرات جیسے بڑے چیلنجز بھی درپیش ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایئر کنڈیشنر لگاتے وقت کن باتوں کو مدنظر رکھا جائے؟

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ 123 سال پرانے ایک تاریخی ایئر کنڈیشننگ نظام سے آج بھی ایسے سبق ملتے ہیں جو جدید دنیا میں گرمی سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

برطانیہ کے شہر بیلفاسٹ میں واقع رائل وکٹوریہ اسپتال میں نصب سنہ 1903 کا ایک منفرد ایئر کنڈیشننگ نظام دنیا کے ابتدائی مکینیکل کولنگ سسٹمز میں شمار ہوتا ہے۔ اینٹوں اور لوہے سے تیار کیا گیا یہ نظام اسپتال کے پرانے وارڈز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ مریض جلد صحت یاب ہو سکیں اور اموات میں کمی لائی جا سکے۔

اس تاریخی نظام میں ایک دیوہیکل 6 بلیڈ والا پنکھا استعمال کیا جاتا تھا جو ہوا کو پانی سے تر کیے گئے ناریل کے ریشوں سے گزار کر ٹھنڈا کرتا تھا۔ اس کے بعد یہ ہوا تقریباً 150 میٹر لمبی سرنگ نما راہداری سے گزرتے ہوئے خفیہ نالیوں کے ذریعے اسپتال کے مختلف وارڈز تک پہنچتی تھی جہاں درجہ حرارت اور نمی دونوں کو مناسب سطح پر برقرار رکھا جاتا تھا۔

ماہرین کے مطابق اس دور میں بیلفاسٹ فیکٹریوں کے دھوئیں اور آلودگی سے شدید متاثر تھا اس لیے ناریل کے گیلے ریشے نہ صرف ہوا کو ٹھنڈا کرتے تھے بلکہ گردوغبار اور کوئلے کے ذرات کو بھی فلٹر کر دیتے تھے جس سے مریضوں کو صاف اور صحت بخش ماحول میسر آتا تھا۔

مزید پڑھیے: شدید گرمی میں عام پنکھا بھی ایئرکنڈیشنر جیسی ٹھنڈک دے سکتا ہے، بس یہ طریقے اپنالیں

اسپتال کے انجینیئرز کے مطابق اس نظام کی بدولت گرمیوں میں جب باہر درجہ حرارت تقریباً 26 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا تھا تو اسپتال کے اندر اسے 18 ڈگری سینٹی گریڈ تک برقرار رکھا جاتا تھا جو اس زمانے کے لحاظ سے ایک غیر معمولی کامیابی تھی۔

شدید گرمی میں ایئر کنڈیشنر کیوں ضروری ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے باعث ایئر کنڈیشننگ اب صرف آرام کی چیز نہیں رہی بلکہ صحت عامہ کا اہم حصہ بن چکی ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس کے ڈاکٹر ڈیوڈ آئزن مین کے مطابق شدید گرمی سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ جسم کو ٹھنڈا رکھنا ہے اور کئی صورتوں میں اس کے لیے ایئر کنڈیشننگ ناگزیر ہو جاتی ہے۔

تحقیقی اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں ایئر کنڈیشننگ ہر سال 65 سال سے زائد عمر کے تقریباً ایک لاکھ 95 ہزار افراد کی جانیں بچانے میں مدد دیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اسپتالوں میں ایئر کنڈیشننگ انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ شدید گرمی کی صورت میں یہ مریضوں کی اموات کے خطرے کو 40 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گرمی کی شدت کے دوران اسپتالوں میں کولنگ سسٹم کی خرابی کو انتہائی سنگین صورتحال تصور کیا جاتا ہے۔

یورپ کی مہلک ہیٹ ویو نے خطرہ واضح کر دیا

سنہ 2003 میں یورپ میں آنے والی شدید گرمی کی لہر میں 20 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

فرانس کے ایک اسپتال میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر بینوا میسے نے بتایا کہ اس وقت ان کے آئی سی یو میں ایئر کنڈیشننگ موجود نہیں تھی۔ مریض شدید ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کا شکار تھے جبکہ ڈاکٹر ٹھنڈے پانی کی بوتلیں جسم پر رکھ کر انہیں بچانے کی کوشش کرتے رہے مگر ریفریجریٹر بھی اتنا پانی ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔

بعد ازاں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جن اسپتالوں میں ایئر کنڈیشننگ موجود نہیں تھی وہاں شدید گرمی کے دوران مریضوں کی اموات کا خطرہ 76 فیصد زیادہ تھا۔

دنیا بھر میں کولنگ شیلٹرز کا رجحان

شدید گرمی سے بچانے کے لیے کئی ممالک اب عوامی سطح پر ٹھنڈی جگہیں قائم کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: بغیر بجلی چلنے والا نیا کولنگ سسٹم متعارف، ایئر کنڈیشنرز کا متبادل قرار

بھارت کے شہر جودھ پور میں ایک خصوصی کولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے جہاں دیواروں میں استعمال ہونے والی گھاس کو پانی سے تر رکھا جاتا ہے اور شمسی توانائی سے چلنے والے پنکھے ہوا کو ٹھنڈا کر کے اندرونی درجہ حرارت کو 12 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کر دیتے ہیں۔

اسی طرح اسپین نے ملک بھر میں کلائمیٹ شیلٹرز قائم کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے، جبکہ لندن میں ایسی لائبریریوں، عجائب گھروں، گرجا گھروں اور دیگر عمارتوں کی فہرست جاری کی گئی ہے جہاں شہری شدید گرمی کے دوران جا کر ٹھنڈک حاصل کر سکتے ہیں۔

ایئر کنڈیشنر کے نقصانات بھی موجود

اگرچہ ایئر کنڈیشننگ جانیں بچانے میں مدد دیتی ہے لیکن اس کے ماحولیاتی نقصانات بھی کم نہیں۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ایئر کنڈیشننگ تقریباً 7 فیصد بجلی استعمال کرتی ہے جبکہ اس سے عالمی سطح پر 2.7 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں بھی حصہ پڑتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کولنگ کے لیے استعمال ہونے والی بجلی فوسل فیول سے پیدا ہو تو فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔

صرف ایئر کنڈیشنر ہی حل نہیں

یونیورسٹی آف لیڈز کی ماہر کیتھرین نوکس کے مطابق صرف ایئر کنڈیشنر پر انحصار کرنے کے بجائے عمارتوں کو قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھنے کے طریقے بھی اپنانا ضروری ہیں جیسے کہ عمارتوں پر سایہ فراہم کرنا، سفید یا ہلکے رنگ کی چھتیں استعمال کرنا، بہتر انسولیشن کرنا اور کھڑکیوں کو دھوپ سے محفوظ رکھنا۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں میں جہاں گرمی بہت زیادہ ہو وہاں صرف قدرتی طریقے کافی ثابت نہیں ہوتے۔

تاریخی نظام آج بھی سبق دیتا ہے

رائل وکٹوریہ اسپتال کا 123 سال پرانا ایئر کنڈیشننگ نظام اگرچہ اب استعمال میں نہیں لیکن اسے آج بھی محفوظ رکھا گیا ہے تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ ایک صدی پہلے بھی انسان شدید گرمی سے نمٹنے اور مریضوں کی جانیں بچانے کے لیے جدید انجینیئرنگ سے فائدہ اٹھا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: اے آئی پینٹ جو ایئرکنڈیشنرز کا خرچہ کم کرتا ہے

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے دور میں یہ تاریخی نظام اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مؤثر کولنگ صرف آرام کا ذریعہ نہیں بلکہ صحت عامہ اور انسانی جانوں کے تحفظ کا اہم ستون بھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کوہاٹ میں طوفانی بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے 9 افراد جاں بحق، 3 زخمی

پاکستان جنوبی افریقہ انڈر 19 ویمنز ٹی 20 سیریز: تمام میچز میں مفت داخلے کا اعلان

او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین اختتام پذیر، پاکستان نے آئندہ 2 سال کے لیے سربراہی سنبھال لی

19 سالہ چینی طالب علم نے 28 کروڑ روپے کی جائیداد بچپن کے دوست کے نام کر دی

وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات، عالم اسلام کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال

ویڈیو

’چاہتا ہوں یہ چیزیں نہ ہوں، پارٹی کارکنان سکون کا سانس لیں‘، وسیم اختر کا خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی لفظی جنگ پر ردعمل

وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ، کون سے نئے چہرے شامل ہونے جا رہے ہیں؟

سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی، کیا صارفین کو واقعی ریلیف ملا ؟

کالم / تجزیہ

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ

اونٹ کے جسم پر گل کاری کا آرٹ