پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں 39 فیصد اضافہ، مالی سال 26-2025 میں آٹو صنعت کی نمایاں بحالی

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں مالی سال 26-2025 کے دوران گاڑیوں کی فروخت میں 39 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بڑی وجوہات (خوشحال) صارفین کی بہتر قوت خرید، بینکوں کی جانب سے آٹو فنانسنگ میں آسانیاں اور مختلف کمپنیوں کی جانب سے نئی گاڑیوں، ہائبرڈ اور الیکٹرک ماڈلز کی پیشکش قرار دی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا چھوٹی گاڑیاں سستی ہونے جارہی ہیں؟ عوام کے لیے بڑی خوشخبری آگئی

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 26-2025 کے دوران 155,631 گاڑیاں فروخت ہوئیں جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 39 فیصد زیادہ ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق جیپوں اور پک اپ گاڑیوں کی فروخت 41 فیصد اضافے کے ساتھ 50,814 یونٹس تک پہنچ گئی جبکہ ٹرکوں اور بسوں کی فروخت 67 فیصد بڑھ کر 7,439 یونٹس رہی۔ اسی طرح رکشوں کی فروخت بھی 25 فیصد اضافے کے بعد 985 یونٹس تک پہنچ گئی۔

دوسری جانب موٹرسائیکلوں اور رکشوں کی مجموعی فروخت 30 فیصد اضافے کے ساتھ 19 لاکھ 72 ہزار 77 یونٹس رہی۔

تاہم زرعی شعبے میں ٹریکٹروں کی فروخت میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔ مالی سال کے دوران ٹریکٹرز کی فروخت ایک فیصد کم ہو کر 28,791 یونٹس رہی جس کی وجہ ماہرین نے زرعی شعبے میں مسلسل کم منافع کے باعث کسانوں کی سرمایہ کاری میں ہچکچاہٹ کو قرار دیا۔

آٹو اور موٹرسائیکل صنعت کے ماہر محمد صابر شیخ نے بتایا کہ گاڑیوں کی فروخت میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں جن میں صارفین کی بہتر مالی استطاعت، بینکوں کی پرکشش آٹو فنانسنگ اسکیمیں اور مختلف کمپنیوں کی جانب سے پٹرول، ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کے متعدد نئے ماڈلز متعارف کرانا بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیے: گاڑیاں سستی ہوں گی یا مہنگی؟ نئی آٹو پالیسی آخری مراحل میں داخل

انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس موٹرسائیکلوں کی فروخت اب بھی کورونا وبا سے پہلے کی سطح تک بحال نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق سنہ 2016 میں سرکاری اور غیر سرکاری دونوں شعبوں کو ملا کر سالانہ موٹرسائیکل فروخت تقریباً 30 لاکھ یونٹس تک پہنچ گئی تھی لیکن اب متوسط طبقے کی قوت خرید میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔

محمد صابر شیخ کا کہنا تھا کہ آج ایک عام صارف کے لیے تقریباً 3 لاکھ روپے مالیت کی الیکٹرک موٹرسائیکل خریدنا آسان نہیں جبکہ دوسری جانب گاڑیوں کے خریدار ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کی گاڑیاں بھی خرید رہے ہیں جو دونوں طبقوں کی قوت خرید میں واضح فرق کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، خصوصاً سندھ میں، عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام اب بھی ناکافی ہے اور کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ مسائل کا شکار ہے۔ ان کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو فوری طور پر سڑکوں کی بہتری اور جدید عوامی ٹرانسپورٹ کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیں: بلاسود گاڑیاں اور الیکٹرک اسکوٹیز، پنجاب کے بجٹ میں نوجوانوں کو کیا ملنے جا رہا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے باعث رکشوں اور رائیڈ ہیلنگ سروسز کے کرایوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں متوسط طبقے کے لیے موٹرسائیکل اب ایک ضرورت بن چکی ہے لیکن اس کی خریداری بھی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کوہاٹ میں طوفانی بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے 9 افراد جاں بحق، 3 زخمی

پاکستان جنوبی افریقہ انڈر 19 ویمنز ٹی 20 سیریز: تمام میچز میں مفت داخلے کا اعلان

او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین اختتام پذیر، پاکستان نے آئندہ 2 سال کے لیے سربراہی سنبھال لی

19 سالہ چینی طالب علم نے 28 کروڑ روپے کی جائیداد بچپن کے دوست کے نام کر دی

وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات، عالم اسلام کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال

ویڈیو

’چاہتا ہوں یہ چیزیں نہ ہوں، پارٹی کارکنان سکون کا سانس لیں‘، وسیم اختر کا خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی لفظی جنگ پر ردعمل

وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ، کون سے نئے چہرے شامل ہونے جا رہے ہیں؟

سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی، کیا صارفین کو واقعی ریلیف ملا ؟

کالم / تجزیہ

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ

اونٹ کے جسم پر گل کاری کا آرٹ