بازار کی تیار شدہ اشیا میں شامل اضافی اجزا سے بچنے کے لیے گھر میں چند سادہ تبدیلیاں صحت مند زندگی کی طرف اہم قدم ثابت ہوسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خوراک خریدنے سے پہلے معلومات چیک کرنے والی ایپس واقعی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں؟
آئس کریم، تیار شدہ چٹنیوں، پیک شدہ اسنیکس اور بعض روٹیوں سمیت کئی ایسی غذائیں جنہیں ہم روزمرہ استعمال کرتے ہیں ان میں ایسے اجزا شامل ہوسکتے ہیں جو عام طور پر گھروں میں استعمال نہیں کیے جاتے۔
ان غذاؤں کو الٹرا پراسیسڈ فوڈز کہا جاتا ہے یعنی ایسی اشیا جو صنعتی سطح پر کئی مراحل سے گزار کر تیار کی جاتی ہیں اور ان میں ذائقہ، رنگ، ساخت یا زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کے لیے مختلف اضافی اجزا شامل کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال موٹاپے، ٹائپ 2 ذیابیطس اور بعض دیگر صحت کے مسائل سے منسلک پایا گیا ہے۔ تاہم انہیں مکمل طور پر خوراک سے نکالنا آسان نہیں کیونکہ یہ اکثر سستی، آسانی سے دستیاب اور فوری استعمال کے قابل ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیے: ہڈیاں مضبوط رکھنی ہیں تو صرف دودھ کافی نہیں، یہ غذائیں بھی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل پابندی کے بجائے روزمرہ خوراک میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں کرکے ان غذاؤں کا استعمال کم کیا جاسکتا ہے۔
آئس کریم کے بجائے گھر کا صحت مند متبادل
بازار کی آئس کریم میں اکثر ایسے اجزا شامل ہوتے ہیں جیسے گاڑھا کرنے والے مادے اور مصنوعی اجزا جو عام گھروں میں استعمال نہیں ہوتے۔
ایک آسان متبادل کے طور پر پکے ہوئے کیلے کو بغیر چینی والے کوکو پاؤڈر کے ساتھ بلینڈ کرکے ایسی میٹھی چیز تیار کی جاسکتی ہے جو ذائقے اور ساخت میں آئس کریم جیسی محسوس ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: ماں بننے کا سفر یا ذہنی جنگ؟ حمل کے دوران غذائی امراض کی پوشیدہ حقیقت
اسی طرح دہی کو منجمد کرکے اس میں تازہ یا منجمد پھل شامل کرکے بھی ایک صحت مند متبادل بنایا جاسکتا ہے۔
پیک شدہ بیگل کے بجائے گھر میں تیار کریں
بازار میں دستیاب بعض بیگلز (ایک خاص قسم کی روٹی) میں اضافی چینی اور دیگر اجزا شامل ہوسکتے ہیں۔
گھر میں صرف دو بنیادی اجزا، یعنی خود اٹھنے والا آٹا اور دہی استعمال کرکے بیگل تیار کیے جاسکتے ہیں۔ یہ نہ صرف آسان ہے بلکہ اس میں کیلشیم اور پروٹین بھی موجود ہوتا ہے۔
تیار شدہ ٹماٹر سوس کے بجائے گھریلو چٹنی
بازار کی تیار شدہ ٹماٹر سوس میں بعض اوقات اضافی چینی، گاڑھا کرنے والے اجزا اور محفوظ رکھنے والے مادے شامل ہوتے ہیں۔

اس کے بجائے گھر میں پیاز، لہسن، ٹماٹر اور جڑی بوٹیوں سے سادہ سوس تیار کی جاسکتی ہے جو ذائقے میں بھی بہتر ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: صحت بخش غذا کھانے کے لیے خود کو دھوکا دینے کے چند آسان طریقے
ماہرین کے مطابق کسی بھی پیک شدہ چیز کے اجزا کی فہرست دیکھنا ضروری ہے کیونکہ جتنے زیادہ غیر مانوس اجزا شامل ہوں گے اس کے زیادہ پراسیسڈ ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
تیار شدہ اسٹر فرائی سوس کے بجائے گھریلو ذائقہ
سبزیوں اور پروٹین سے بھرپور کھانے کو تیار شدہ سوس کے ساتھ کھانے کے بجائے گھر میں سویا سوس، شہد، تل کے تیل اور لہسن سے آسان سوس تیار کی جاسکتی ہے۔
اس طرح نمک، چینی اور غیر ضروری اضافی اجزا کی مقدار کو کم کیا جاسکتا ہے۔
پیک شدہ چپس کے بجائے صحت مند اسنیکس
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر پیک شدہ چیز لازماً غیر صحت مند نہیں ہوتی، مثال کے طور پر سادہ نمک والے کچھ چپس صرف آلو، تیل اور نمک پر مشتمل ہوسکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اب بھی وقت ہے غذا اچھی طرح چبا کر کھائیں، جانیے بہتر ہاضمے کے علاوہ اس عمل کے ’بونس‘ فوائد
تاہم زیادہ بہتر متبادل کے طور پر گھر میں تیار پاپ کارن استعمال کیا جاسکتا ہے جو فائبر سے بھرپور ہوتا ہے اور اس میں تیل اور نمک کی مقدار کو خود کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
تیار شدہ انرجی بارز کے بجائے گھر کی اوٹ بارز
بازار میں دستیاب کئی پروٹین یا گرینولا بارز بظاہر صحت مند نظر آتی ہیں لیکن ان میں اضافی اجزا شامل ہوسکتے ہیں۔
گھر میں جئی، خشک پھل، گری دار میوے، شہد یا مونگ پھلی کے مکھن سے آسانی سے صحت مند بارز تیار کی جاسکتی ہیں۔
جئی فائبر سے بھرپور ہوتی ہے جبکہ بادام اور دیگر گری دار میوے صحت مند چکنائی اور پروٹین فراہم کرتے ہیں۔
خوراک میں توازن ضروری ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کو مکمل طور پر ختم کرنا ہر شخص کے لیے ضروری یا ممکن نہیں، تاہم بہتر انتخاب کرکے ان کا استعمال کم کیا جاسکتا ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق خوراک میں زیادہ قدرتی اور کم پراسیسڈ چیزیں شامل کرنے سے غیر صحت مند اشیا کی مقدار خود بخود کم ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: شدید گرمی میں کیا کھانا اور پینا چاہیے؟ ماہرین نے ہیٹ ویو کے دوران بہترین خوراک بتا دی
صحت مند خوراک کا مقصد صرف یہ نہیں کہ کیا نہ کھایا جائے بلکہ یہ بھی ہے کہ روزمرہ زندگی میں بہتر غذائیں کیسے شامل کی جائیں۔
الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا بڑھتا استعمال
دنیا کے کئی ممالک میں الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا میں اوسطاً ایک بالغ شخص کی روزانہ حاصل ہونے والی توانائی (کیلوریز) کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ ایسی غذاؤں سے آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی خاندان دو تہائی آمدن خوراک اور رہائش پر خرچ کرنے پر مجبور، سروے میں انکشاف
ماہرین کے مطابق ان غذاؤں کی آسان دستیابی، کم قیمت اور فوری استعمال کی سہولت ان کی مقبولیت کی بڑی وجوہات ہیں۔
ہر پیک شدہ یا پراسیسڈ چیز نقصان دہ نہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر پراسیسڈ غذا لازماً غیر صحت مند نہیں ہوتی۔
وہ کہتے ہیں کہ بعض غذائیں اگرچہ پیک شدہ ہوتی ہیں لیکن ان میں اجزا کی تعداد کم اور سادہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایسی ٹماٹر سوس جس میں صرف ٹماٹر، تیل، نمک اور جڑی بوٹیاں شامل ہوں اسے لازماً الٹرا پراسیسڈ غذا نہیں کہا جاسکتا۔
اجزا کی فہرست پر نظر رکھنا ضروری
غذائی ماہرین کے مطابق خریداری کے وقت کسی بھی پیک شدہ چیز کے اجزا کی فہرست دیکھنا ایک آسان طریقہ ہے۔
اگر کسی چیز میں بہت زیادہ اجزا شامل ہوں خاص طور پر ایسے نام جو عام طور پر گھروں میں استعمال نہیں ہوتے تو اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ وہ زیادہ پراسیس شدہ غذا ہو۔
صحت مند خوراک کا مطلب صرف پرہیز نہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر غذا اختیار کرنے کا مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون سی چیزیں نہیں کھانی بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ خوراک میں صحت مند چیزوں کو کیسے شامل کیا جائے۔
مزید پڑھیے: مری مال روڈ پر آپریشن، بازار بند ہونے سے سیاحوں کو خوراک اور رہائش کے مسائل
سبزیاں، پھل، اناج، گری دار میوے اور گھر میں تیار کردہ کھانے شامل کرنے سے غیر صحت مند غذاؤں کی مقدار خود بخود کم کی جاسکتی ہے۔
پاپ کارن کے استعمال میں احتیاط
گھر میں تیار کیا گیا پاپ کارن کم چکنائی اور زیادہ فائبر والا بہتر اسنیک ہوسکتا ہے تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 5 سال سے کم عمر بچوں کو پاپ کارن نہیں دینا چاہیے کیونکہ یہ دم گھٹنے کا خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔ والدین کو چھوٹے بچوں کے لیے اس حوالے سے خاص احتیاط کرنی چاہیے۔














