میر رضا کیس: تحقیقاتی کمیشن میں ڈاکٹر سمیہ اور ڈاکٹر اسامہ کے بیانات سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟

جمعہ 18 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میر رضا کیس کے تحقیقاتی کمیشن کی سماعت کے دوران ہوشرُبا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ سماعت میں میڈیکو لیگل افسر (ایم ایل او) کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، فرانزک رپورٹس میں واضح تضاد اور پولیس کی شدید مداخلت پر سخت سوالات اٹھائے گئے۔

کمیشن نے میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ شیخ کو طلب کر کے ان کی تعلیمی قابلیت اور تجربے کے حوالے سے استفسار کیا۔

ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ انہوں نے 2016 میں ایم بی بی ایس مکمل کیا، 2019 میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سرکاری ملازمت اختیار کی اور 2021 میں انہیں پولیس سرجن آفس میں تعینات کیا گیا۔

کمیشن نے دریافت کیا کہ کیا ایم بی بی ایس میں میڈیکو لیگل کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے اور انہوں نے اب تک کتنے پوسٹ مارٹم کیے ہیں؟ اس پر ڈاکٹر اسامہ کا کہنا تھا کہ وہ حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتے، تاہم اب تک 100 سے زائد پوسٹ مارٹم کر چکے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:میر رضا کی موت کا معمہ برقرار، 78 افراد سے پوچھ گچھ کے باوجود قتل کا سراغ نہیں ملا، کراچی پولیس چیف آزاد خان

اس جواب پر کمیشن نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مطلوبہ ڈپلوما کے بغیر ہی پوسٹ مارٹم کرتے رہے ہیں؟

پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کمیشن نے پوچھا کہ میر رضا کا پوسٹ مارٹم انہوں نے خود کیا تھا یا کسی خاکروب (سویپر) نے؟ ڈاکٹر اسامہ نے دعویٰ کیا کہ پوسٹ مارٹم انہوں نے خود کیا تھا جب کہ خاکروب وہاں محض موجود تھا۔

تاہم کمیشن نے لاش کی تصاویر دکھاتے ہوئے سخت لہجے میں استفسار کیا کہ رپورٹ میں جلنے یا ہاتھ پر موجود نشانات کا ذکر کہاں ہے؟ کیا وہ رپورٹ درست تھی؟

ڈاکٹر اسامہ نے جواب دیا کہ لاش پر جلنے کے کوئی نشانات نہیں تھے اور معائنے میں کوئی واضح فریکچر بھی نہیں ملا۔ اس پر کمیشن نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ کیا آپ واقعی ڈاکٹر ہیں بھی یا نہیں؟

فرانزک رپورٹس میں تضاد اور رپورٹ میں تبدیلی

سماعت کے دوران شواہد جمع کرانے میں تاخیر اور فرانزک رپورٹس میں مبینہ ردو بدل کا اہم نکتہ بھی زیرِ بحث آیا۔ وکیلِ رہنما جبران ناصر نے نشان دہی کی کہ 29 جولائی کو حاصل کیے گئے نمونے پولیس نے 6 اگست کو لیبارٹری میں جمع کروائے۔

کمیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ حتمی رپورٹ ابتدائی رپورٹ سے اتنی مختلف کیوں تھی اور دونوں کی لکھائی (ہینڈ رائٹنگ) میں فرق کیوں پایا گیا؟

مقتول کے جسم سے لوکل اینستھیسیا ملنے کے انکشاف پر کمیشن نے استفسار کیا کہ یہ کیمیکل صرف 8 سے 12 گھنٹے تک خون میں رہ سکتا ہے، جب کہ لاش 24 سے 36 گھنٹے پرانی تھی۔ تو پھر جسم میں اینستھیسیا کے اثرات کیسے ملے؟ کیا یہ اسپرے کے ذریعے دیا گیا تھا؟

مزید پڑھیں:میر رضا قتل کیس: پولیس کی تحقیقات سے مطمئن نہیں، جے آئی ٹی تشکیل دلوا کر رہیں گے، مقتول کے والد میر حسین

جب جبران ناصر نے بتایا کہ حتمی رپورٹ میں موت کا وقت بدل کر 20 سے 22 گھنٹے کر دیا گیا تھا، تو کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ سے جواب طلب کیا، ’کیا یہ غلطی ہے، غفلت ہے یا پھر قتل میں سہولت کاری؟‘

کمیشن نے پوچھا کہ کیا ان پر رپورٹ تبدیل کرنے کے لیے کوئی دباؤ تھا؟ تاہم، ڈاکٹر اسامہ نے کسی بھی قسم کے انتظامی دباؤ کی سختی سے تردید کی۔

وزیرِ اعلیٰ ہاؤس طلبی اور پولیس کا دباؤ

تحقیقات میں پولیس افسران کی جانب سے غیر قانونی مداخلت کا انکشاف اس وقت ہوا جب کمیشن نے پوچھا کہ ایک ایم ایل او کو وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کیوں بلایا گیا؟

ڈاکٹر اسامہ نے بتایا کہ ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار، ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو اور ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے انہیں وہاں جانے کا حکم دیا تھا۔ جب ڈاکٹر اسامہ نے تھانے جانے کے لیے باقاعدہ آفیشل لیٹر مانگا تو انہیں کہا گیا کہ ’اپنے باس کے باس کے حکم پر عمل درآمد کرو‘۔

جبران ناصر کے مطابق جب پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ نے اس معاملے پر فعال کردار ادا کرنا شروع کیا، تو پولیس افسران نے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ٹائم لائنز مانگنا شروع کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں:میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، مظاہرین پر ایف آئی آر کا تذکرہ

بعد ازاں 17 اگست کو نئی تفتیشی ٹیم کے ڈی ایس پی سراج لاشاری نے ڈاکٹر اسامہ کو طلب کر کے کیمرے پر ان کا بیان ریکارڈ کیا اور ان کا موبائل فون ضبط کر لیا۔

طبی نظام کی خامیاں اور کمیشن کے ریمارکس

کمیشن نے سرکاری اسپتالوں میں پوسٹ مارٹم کے مروجہ نظام پر کڑی تنقید کی۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ یہ بات تو ہمیں بھی پتا ہے کہ پوسٹ مارٹم عام طور پر سویپر کرتے ہیں اور ڈاکٹرز صرف کاغذات پر دستخط کرتے ہیں۔

کمیشن نے سوال اٹھایا کہ اگر ڈاکٹر اسامہ اپنا کام درست طریقے سے کر رہے تھے تو پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کو خط لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس موقع پر ڈاکٹر سومرو نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ انہوں نے ڈاکٹر سمیہ کے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کی تھی۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ کے سنسنی خیز انکشافات

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ نے کمیشن کے روبرو پیش ہو کر کیس کی تفصیلی فرانزک پریزنٹیشن دی اور کئی سنسنی خیز انکشافات کیے۔

ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ اس کیس میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کی پاداش میں انہیں سنگین دھمکیاں دی گئیں، موٹر سائیکل پر ان کا پیچھا کیا گیا اور ان کی رہائش گاہ کا پتا سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا گیا۔

انہوں نے کمیشن کو بتایا، ’میں نے اس کیس کی خاطر اپنا کریئر داؤ پر لگایا ہے اور مجھے کہا گیا کہ اگر کیس سے خودکشی کا پہلو نکالنا ہی ہے تو ہلکا ہاتھ رکھیں‘۔

کمیشن کی جانب سے سیکیورٹی اور رینجرز فراہم کرنے کی پیش کش پر انہوں نے واضح کیا کہ انہیں پولیس کی سیکیورٹی درکار نہیں۔

کمیشن نے اس صورتِ حال پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ یہ معاملہ وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ داخلہ کے سامنے اٹھایا جائے کیونکہ ایسی دھمکیاں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

ابتدائی پوسٹ مارٹم کے نقائص اور کیمیکل ٹارچر کا انکشاف

پولیس سرجن نے ابتدائی پوسٹ مارٹم کی سنگین خامیوں کی نشان دہی کی۔ انہوں نے بتایا کہ میر رضا کیس میں گن شاٹ کے نمونے ہی حاصل نہیں کیے گئے تھے اور گولی کے زخم کا سائز بھی غلط درج کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سینے پر موجود نشان کو گولی داخل ہونے کا مقام قرار دیا گیا جو سراسر غلط تھا، کیونکہ گولی داخل ہونے کا نشان چھوٹا جب کہ نکلنے کا نشان بڑا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر سمیہ نے لرزہ خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار کیمیکل ٹارچر کا ایسا منظر دیکھا ہے۔

مزید پڑھیں:میر رضا کیس: سندھ کابینہ نے تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی منظوری دیدی

مقتول کے چہرے، ہاتھ اور پیروں پر ہائیڈروکلورک ایسڈ سے جلنے کے واضح نشانات تھے اور ان کی شرٹ پر بھی کاربنائزیشن پائی گئی۔

کیمیکل تجزیے کی رپورٹ میں بھی تیزاب کی باقیات کی تصدیق ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جسم پر موجود زخموں کو آسانی سے ڈی کمپوزیشن (لاش کے خراب ہونے کا عمل) سمجھا جا سکتا تھا، لیکن جلد کے 4 ماہرین سے مشاورت کے بعد کیمیکل ٹارچر کی حتمی تصدیق ہوئی۔

اینستھیسیا اور گن شاٹ ریزیڈیو (جی ایس آر) کا انکشاف

ڈاکٹر سمیہ نے فرانزک رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ جس وقت میر رضا کو گولی لگی، اس وقت ان کے جسم اور دل کے خون میں لوکل اینستھیسیا موجود تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اینستھیسیا نس میں لگایا جائے تو وہ فوری اور جان لیوا اثر دکھا سکتا ہے۔

علاوہ ازیں، مقتول کے دونوں ہاتھوں سے گن شاٹ ریزیڈیو (گولی چلنے کے بارودی ذرات) کے اثرات بھی پائے گئے۔

انہوں نے ابتدائی رپورٹ مرتب کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کے بیانات کو یکسر مسترد کر دیا۔ ڈاکٹر سمیہ نے واضح کیا کہ ڈاکٹر اسامہ نے دوا کی ہاف لائف (اثر کی مدت) غلط بتائی تھی اور ان کا یہ بیان بالکل بے بنیاد ہے کہ ڈاکٹر سمیہ نے انہیں اس کیس میں پھنسایا ہے۔

قبر کشائی، میڈیکل بورڈ کے تنازعات اور خودکشی کا امکان خارج

کمیشن کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پولیس اور پوسٹ مارٹم ٹیم نے اہم فرانزک شواہد کو یکسر نظر انداز کر دیا تھا، جس کی بنیاد پر انہوں نے 3 اگست کو قبر کشائی کی سفارش کی تھی۔

تاہم میڈیکل بورڈ کی تشکيل میں تبدیلیاں کی گئیں اور محکمہ صحت کے ڈپٹی سیکریٹری نے انہیں زبانی ہدایت دی کہ وہ خود کو اس بورڈ سے الگ کر لیں۔

بعد ازاں جوڈیشل مجسٹریٹ کی منسوخی اور سیکریٹری صحت کی مداخلت پر پرانے میڈیکل بورڈ کو بحال کیا گیا، جس کی نگرانی میں 8 اگست کو قبر کشائی کا عمل میں لایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:میر رضا قتل کیس: اہل خانہ نے سندھ حکومت کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ مسترد کردیا

کمیشن کے استفسار پر ڈاکٹر سمیہ نے واضح کیا کہ میڈیکل بورڈ کی فائنڈنگز اور حتمی رپورٹ کی روشنی میں خودکشی کا امکان مکمل طور پر خارج ہو چکا ہے۔

سندھ میڈیکو لیگل ایکٹ اور کمیشن کی تجاویز

سماعت کے دوران جب سندھ میڈیکو لیگل ایکٹ کے حوالے سے پوچھا گیا تو ایڈوکیٹ جبران ناصر اور ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ یہ ایکٹ نافذ العمل تو ہے لیکن سندھ ہائیکورٹ کے 2024 کے واضح احکامات کے باوجود تاحال اس کے رولز کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکا ہے۔

کمیشن نے ڈاکٹر سمیہ کے تفصیلی جوابات کو سراہتے ہوئے فرانزک شعبے میں بہتری لانے کے لیے ان سے تجاویز بھی طلب کر لیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp