دوا فروخت کرنے کے لیےڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ

ہفتہ 3 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ رجسٹرڈ ڈاکٹر اپنے مریض کو دوا تجویز کرنے کے ساتھ اسے فراہم بھی کرسکتا ہے، تاہم وہ ڈرگز ایکٹ 1976 کے تحت مطلوبہ لائسنس کے بغیر میڈیکل اسٹور یا ریٹیل ڈرگ آؤٹ لیٹ نہیں چلا سکتا۔

وفاقی آئینی عدالت نے یہ فیصلہ پشاور ہائیکورٹ کے ڈی آئی خان بینچ کا 5 جون 2023 کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے جاری کیا۔

ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنرز کے خلاف میڈیکل اسٹورز اور ڈسپنسریاں چلانے کے الزام میں کی جانے والی ضابطہ کار کارروائی روک دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور کی سونیا سے عائشہ بننے والی خاتون کیس کا فیصلہ، وفاقی آئینی عدالت نے والدین کی حوالگی کی درخواست خارج کردی

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل وفاقی آئینی عدالت کے 2 رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے سیکریٹری کی جانب سے دائر اپیل پر فیصلہ سنایا۔

مقدمے کے فریقین میں ڈاکٹر محمد رضوان راجپوت سمیت بعض رجسٹرڈ ڈاکٹر شامل تھے، جن کے کلینیکل مراکز میں ڈسپنسریاں اور میڈیکل اسٹورز قائم پائے گئے تھے۔

ان پر الزام تھا کہ وہ مطلوبہ ڈرگ سیل لائسنس کے بغیر ادویات ذخیرہ اور فروخت کررہے تھے۔

مزید پڑھیں: نئی گاج ڈیم پر 62 ارب خرچ، کام 50 فیصد بھی مکمل نہیں، واپڈا کا آئینی عدالت میں اعتراف

21 جنوری 2020 کو متعلقہ حکام نے ان مراکز کا معائنہ کیا اور ادویات قبضے میں لینے کے بعد فارم-6 جاری کیا، جبکہ ڈاکٹروں کو شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے گئے۔

متاثرہ ڈاکٹروں نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جس نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے ضابطہ کار کارروائی کے خلاف حکم جاری کردیا تھا۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے 9 صفحات پر مشتمل فیصلے میں واضح کیا کہ میڈیکل ریگولیٹری ادارے میں ڈاکٹر کی رجسٹریشن اور فارمیسی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کے قانونی مقاصد مختلف ہیں۔

مزید پڑھیں: حارث اسٹیل مل ریفرنس ختم کرنے کیخلاف کیس، وفاقی آئینی عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کردیا

عدالت کے مطابق ڈاکٹر کی حیثیت سے رجسٹریشن اسے ڈرگز ایکٹ کے تحت لائسنس حاصل کرنے کی شرط سے مستثنیٰ نہیں کرتی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ فارمیسی ایکٹ 1967 کی دفعہ 31(4)(a) رجسٹرڈ ڈاکٹر کو صرف اپنے مریض کو دوا دینے یا اپنا نسخہ خود پورا کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

اس شق کو میڈیکل اسٹور قائم کرنے یا ادویات کی تجارتی بنیادوں پر فروخت کا اختیار قرار نہیں دیا جاسکتا۔

مزید پڑھیں: ’ایسی کہانیاں تو فلموں میں ہوتی ہیں‘، آئینی عدالت نے جنسی زیادتی کی شکار خاتون کی درخواست خارج کر دی

عدالت نے قرار دیا کہ ڈرگز ایکٹ کی دفعہ 23(1)(c) کے تحت کوئی بھی شخص لائسنس کے بغیر دوا فروخت نہیں کرسکتا اور قانون میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کے لیےاس حوالے سے کوئی خصوصی استثنیٰ موجود نہیں۔

ایف سی سی نے ڈرگ انسپکٹر کی کارروائی کو بھی قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈرگز ایکٹ کی دفعات 17 اور 18 کے تحت انسپکٹرز کو معائنہ، ادویات کے نمونے لینے، تلاشی اور ادویات قبضے میں لینے کا اختیار حاصل ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کے 126 صفحات پر مشتمل رولز جاری، توہینِ عدالت سے اپیلوں تک قواعد وضع

عدالت نے آئین کے آرٹیکل 18 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیشہ یا کاروبار کرنے کا حق قانون کے تحت مقرر کردہ شرائط کے تابع ہے اور عوامی صحت سے متعلق ادویات کے شعبے میں لائسنسنگ نظام آئینی طور پر جائز ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ شوکاز نوٹس کے مرحلے پر ہائیکورٹ کی جانب سے آئینی دائرہ اختیار استعمال کرنا قبل از وقت تھا، لہٰذا ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر معاملہ متعلقہ قانونی طریقہ کار کے تحت نمٹانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp