دنیا کی سب سے بڑی پینگوئن کالونی شدید خطرے میں، 14 برس میں 63 فیصد گھونسلے ختم

بدھ 7 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انٹارکٹیکا کے قریب ایک دور افتادہ آتش فشانی جزیرے پر پینگوئنز کی دنیا کی سب سے بڑی کالونی میں گزشتہ 14 برس کے دوران غیرمعمولی کمی واقع ہوئی ہے جہاں سنہ 2011 کے مقابلے میں سال 2025 میں چِن اسٹریپ پینگوئنز کے آباد گھونسلوں کی تعداد 63 فیصد کم پائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: لندن چڑیا گھر کے 200 سال مکمل، ملکہ الزبتھ کی پینگوئنز کے ساتھ بچپن کی تصویر جاری

زَوودووسکی جزیرے پر کبھی دنیا کی سب سے بڑی پینگوئن کالونی آباد تھی تاہم نئی تحقیق اور فضائی جائزوں کے مطابق اب یہ جزیرہ یہ اعزاز کھو چکا ہے۔

برطانوی انٹارکٹک سروے کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں سمندری درجہ حرارت میں اضافے اور خوراک کی دستیابی میں تبدیلی نے چِن اسٹریپ پینگوئنز کی بقا کو متاثر کیا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ صورتحال برقرار رہی تو اس نسل کو باضابطہ طور پر خطرے سے دوچار قرار دیے جانے کا امکان بھی ہے۔

سنہ2011  میں 6 لاکھ پینگوئنز آباد تھے

زَوودووسکی جزیرہ ساؤتھ سینڈوچ جزائر کا حصہ ہے، جو انٹارکٹیکا کے براعظم کے شمال میں واقع ایک انتہائی دور افتادہ جزائر کا مجموعہ ہے اور برطانیہ کے زیر انتظام علاقے میں شامل ہے۔

سنہ2011  میں برطانوی انٹارکٹک سروے نے اسے دنیا کی سب سے بڑی پینگوئن کالونی قرار دیا تھا۔ اس وقت اندازہ تھا کہ جزیرے کی بنجر اور چٹانی زمین پر تقریباً 6 لاکھ چِن اسٹریپ پینگوئنز اور 90 ہزار میکرونی پینگوئنز گھونسلے بناتے تھے۔

مزید پڑھیے: صدر ٹرمپ نے ’پینگوئن میم‘ ٹرینڈ میں حصہ لے کر گرین لینڈ کو کونسا مبہم پیغام دیا؟

برطانوی انٹارکٹک سروے کے مطابق یہ دنیا کے ان انتہائی دشوار اور سخت علاقوں میں شامل ہے جہاں سائنسی تحقیق کے لیے فیلڈ ورک کرنا پڑتا ہے۔

تحقیق کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم نے جزیرے تک پہنچنے کے لیے 15 روز تک سمندری سفر کیا۔ سائنسدانوں نے ڈرونز اور فضائی تصاویر کے ذریعے پینگوئنز کی تعداد کا جائزہ لیا جبکہ 20 پینگوئنز پر ٹریکنگ آلات بھی نصب کیے گئے۔

تحقیق اور سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوا کہ سنہ 2011 سے سنہ 2025 کے دوران چِن اسٹریپ پینگوئنز کے آباد گھونسلوں کی تعداد میں 63 فیصد کمی ہوئی۔

پینگوئنز کہاں گئے؟

سائنسدانوں کے مطابق اس خطرناک کمی کی بنیادی وجہ خوراک کی فراہمی میں تبدیلی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث سمندری پانی کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہے۔

تحقیق کی قیادت کرنے والے پروفیسر نارمن ریٹ کلف کے مطابق چِن اسٹریپ پینگوئنز محدود اور مخصوص خوراک پر انحصار کرتے ہیں جبکہ نسبتاً ٹھنڈے پانی کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

ان کے مطابق سمندری پانی کے درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ وہ ننھے سمندری جاندار جنہیں کرِل کہا جاتا ہے مزید جنوب کی طرف منتقل ہوگئے ہیں اور چِن اسٹریپ پینگوئنز کے لیے ان کا پیچھا کرنا آسان نہیں۔

مزید پڑھیں: پینگوئنز کا وجود خطرے میں: جنوبی افریقہ میں 60 ہزار ہلاکتیں، وجہ کیا ہے؟

جنوب کی جانب موجود سمندری برف اور مناسب گھونسلہ سازی کے لیے موزوں جزیروں کی کمی بھی ان پینگوئنز کو خوراک کے نئے علاقوں تک جانے سے روکتی ہے۔

آتش فشاں اور بھوکی وہیلز بھی خطرہ؟

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے پینگوئنز کو درپیش دیگر ممکنہ خطرات کا بھی جائزہ لیا۔

جزیرے پر پینگوئنز ایک فعال آتش فشاں ماؤنٹ کری کے سائے میں گھونسلے بناتے ہیں جسے اس کی خطرناک نوعیت کے باعث ماؤنٹ ایسفیکسیا بھی کہا جاتا ہے۔

آتش فشاں سے نکلنے والی گیسوں کی بو کی وجہ سے اس کے آس پاس کے بعض علاقوں کے نام بھی ’اسٹنچ پوائنٹ‘، ’نوکسس بلف‘ اور ’ایسفیکسیا پلین‘ رکھے گئے ہیں۔

پروفیسر ریٹ کلف نے جزیرے کے ماحول کو انتہائی بدبودار قرار دیتے ہوئے کہا کہ آتش فشاں کی گیسوں کے ساتھ پینگوئنز کی بیٹ کی بڑی مقدار مل کر اسے دنیا کی بدبودار ترین جگہوں میں شامل کر دیتی ہے۔ انہوں نے اسے مزاحاً ’پینگوئن مورڈور‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیے: انٹارکٹیکا میں شاہی پینگوئن کی آبادی میں خطرناک حد تک کمی کا سبب کیا ہے؟

ماؤنٹ کری میں آخری بڑا آتش فشانی دھماکا سنہ 2016 میں ہوا تھا تاہم تحقیق میں جس عرصے کے دوران پینگوئنز کی تعداد میں کمی کا جائزہ لیا گیا اس دوران یہ کمی مسلسل جاری رہی۔ اس لیے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے آتش فشانی سرگرمی کے علاوہ کوئی اور بنیادی وجہ ہے۔

ماہرین نے یہ امکان بھی دیکھا کہ چِن اسٹریپ پینگوئنز کی خوراک، یعنی کرِل، کے لیے ہجرت کرنے والی ہمپ بیک وہیلز سے مقابلہ ہو رہا ہو۔ وہیلز بڑی مقدار میں کرِل کھاتی ہیں، تاہم وہ سمندری پودوں کے لیے غذائی اجزا فراہم کرکے کرِل کی افزائش میں بھی مدد دیتی ہیں۔

تحقیق کاروں کے مطابق شواہد زیادہ بنیادی اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی سمندری خوراک کی فراہمی میں تبدیلی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

ایک نسل کم ہوئی تو دوسری کی تعداد بڑھ گئی

اس تحقیق کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ جہاں چِن اسٹریپ پینگوئنز کی تعداد تیزی سے کم ہوئی وہیں میکرونی پینگوئنز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: انٹارکٹیکا کے پینگوئنز بھی ٹرمپ ٹیرف متاثرین میں شامل

سائنسدانوں کے مطابق میکرونی پینگوئنز بدلتے ہوئے ماحول کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں مطابقت پیدا کرسکتے ہیں کیونکہ ان کی خوراک زیادہ متنوع اور لچک دار ہے۔

پینگوئنز پر نصب کیے گئے ٹریکنگ آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے مطابق میکرونی پینگوئنز جزیرے کے شمال مشرق میں نسبتاً گرم پانیوں میں خوراک تلاش کرتے ہیں جہاں وہ غالباً مچھلیوں اور دیگر چھوٹے سمندری جانداروں کو اپنی خوراک میں شامل کرکے غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں۔

پروفیسر ریٹ کلف کے مطابق ایک ہی مقام پر انٹارکٹیکا میں مختلف پینگوئن نسلوں کی آبادی میں اس نوعیت کی تبدیلی اب تک سب سے بڑی تبدیلی ہے جو مشاہدے میں آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرد ماحول سے مطابقت رکھنے والی انٹارکٹک چِن اسٹریپ نسل اب اپنے نسبتاً گرم ماحول میں رہنے والے پڑوسی میکرونی پینگوئنز کے ساتھ اسی طرح ترقی نہیں کر رہی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ انٹارکٹیکا میں تیزی سے بڑھتا ہوا درجہ حرارت یہاں کے منفرد اور انتہائی حساس ماحولیاتی نظام کو متاثر کر رہا ہے۔

مزید پڑھیے: برف کے تیزی سے پگھلنے کے باعث انٹارکٹیکا کا ماحولیاتی نظام خطرے میں

دنیا کی سب سے بڑی پینگوئن کالونی کا اعزاز اب زَوودووسکی جزیرے کے بجائے انٹارکٹیکا کے دوسری جانب بحیرہ راس میں واقع کیپ اڈیئر کو حاصل ہے جو اس جزیرے سے 5 ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp