نارڈک ممالک کی زبانوں میں ’پلیز‘ کا متبادل کیوں نہیں؟ کیا وہاں لوگ کم مہذب ہیں؟

جمعرات 15 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نارڈک ممالک یعنی ڈنمارک، سویڈن، ناروے، آئس لینڈ اور فن لینڈ میں شائستگی کے اظہار کا انداز مختلف ہے جہاں لہجے، الفاظ کے انتخاب اور سماجی رویوں سے احترام ظاہر کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سکون، سادگی اور فطرت کا سنگم: نارڈک ممالک کے سمر کیبن کیوں دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں؟

دنیا بھر میں سفر کے دوران مقامی زبان میں چند بنیادی الفاظ سیکھنا اچھی عادت سمجھا جاتا ہے۔ سلام، خدا حافظ، ہاں، نہیں، شکریہ اور براہ کرم جیسے الفاظ روزمرہ کی بات چیت کو آسان بنانے کے ساتھ مقامی لوگوں کے لیے احترام کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

لیکن اگر آپ شمالی یورپ کے نارڈک ممالک کا سفر کریں تو ایک دلچسپ صورت حال کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان ممالک کی زبانوں میں انگریزی کے لفظ ’پلیز‘ (براہ کرم) کا ایسا کوئی ایک لفظ موجود نہیں جو ہر موقع پر اسی طرح استعمال کیا جاسکے۔

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کی ایک بیکری میں لیموں کے کیک، الائچی والے بن اور دارچینی کی خوشبو سے بھرے ماحول میں کھڑے کسی سیاح کے لیے یہ بات خاصی حیران کن ہوسکتی ہے۔ وہ مقامی زبان میں اپنا آرڈر دینا تو سیکھ لیتا ہے لیکن جب انگریزی کے لفظ ’پلیز‘ کا متبادل تلاش کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ ڈینش زبان میں اس کا کوئی براہ راست ہم معنی لفظ نہیں۔

یہ صورت حال صرف ڈنمارک تک محدود نہیں بلکہ سویڈش، نارویجین، آئس لینڈی اور فنش زبانوں میں بھی انگریزی کے لفظ ’پلیز‘ جیسا کوئی ایک ہمہ گیر متبادل نہیں ملتا۔

تو کیا ان ممالک کے لوگ بات چیت میں زیادہ بے تکلف یا دوٹوک ہوتے ہیں؟ کیا وہاں شائستگی کو کم اہمیت دی جاتی ہے یا احترام ظاہر کرنے کے طریقے ہی مختلف ہیں؟

ماہرین لسانیات کے مطابق اس فرق کو سمجھنا ان سیاحوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے جو مقامی لوگوں کے ساتھ روزمرہ معاملات میں بہتر انداز سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

شائستگی کے اظہار کے طریقے مختلف ہیں

ناروے کے نینورسک کلچرسینٹرم جو تحریری نارویجین ثقافت سے متعلق ادارہ ہے سے وابستہ ماہر لسانیات ڈاکٹر جیمز پوچوسکی کے مطابق انگریزی کے لفظ ’پلیز‘ کا براہِ راست ترجمہ تلاش کرنا ہی شاید درست نقطہ آغاز نہیں۔

مثال کے طور پر ڈنمارک میں بیکری سے کوئی چیز مانگتے ہوئے ’مائے آء بیدے اوم‘ کے الفاظ استعمال کیے جاسکتے ہیں جن کا مفہوم ہے ’کیا میں درخواست کرسکتا ہوں؟‘ اس طرح درخواست میں شائستگی کا پہلو شامل ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیے: بیرونی ممالک سے لوٹنے پر کچھ لوگ لہجہ، لباس اور عادتیں کیوں بدل لیتے ہیں؟

سویڈن میں کوئی شخص اپنی درخواست کے ساتھ ’ٹیک‘ (شکریہ) کا لفظ استعمال کرسکتا ہے جب کہ ناروے میں درخواست کے اختتام پر لہجے میں نرمی اور مسکراہٹ بھی شائستگی ظاہر کرنے کے لیے کافی ہوسکتی ہے۔

ڈینش زبان کی استاد ڈینیئلا ہملگرین کے مطابق وہاں گفتگو کا انداز عمومی طور پر براہ راست اور واضح ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان معاشروں میں وقت اور کام کی انجام دہی کو اہمیت دی جاتی ہے اس لیے گفتگو میں غیرضروری تکلف کو بعض اوقات ناگوار سمجھا جاسکتا ہے، خصوصاً جب اس سے کسی کام میں تاخیر ہو۔

کیا دوٹوک انداز بدتمیزی کی علامت ہے؟

ماہرین کے مطابق کسی زبان میں ’پلیز‘ جیسے لفظ کی عدم موجودگی کو بدتمیزی سے جوڑنا درست نہیں کیونکہ شائستگی کا اظہار صرف مخصوص الفاظ کے ذریعے نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر پوچوسکی کے مطابق نارڈک معاشروں میں مساوات کو خاص اہمیت حاصل ہے اور روزمرہ گفتگو میں لوگوں کے درمیان سماجی مرتبے کا فرق نمایاں کرنے پر نسبتاً کم زور دیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر ’ہیر‘ اور ’فرو‘ جیسے رسمی القاب، جن کے مفہوم بالترتیب جناب اور محترمہ کے قریب ہیں، ڈنمارک اور خطے کے دیگر ممالک میں روزمرہ گفتگو کا عام حصہ نہیں رہے۔

یہ رجحان اسکینڈے نیویا کے ایک معروف سماجی تصور ’قانونِ یانتے‘ سے بھی منسلک کیا جاتا ہے۔ اس تصور کے مطابق کسی فرد کو خود کو دوسروں سے زیادہ اہم یا برتر نہیں سمجھنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: چھٹیوں سے زیادہ سکون کیسے حاصل کریں؟ ماہرین نے خوشگوار سفر کے 4 آسان راز بتا دیے

اس سوچ کے تحت روزمرہ میل جول میں کسی دوسرے شخص کے سامنے ضرورت سے زیادہ عاجزی یا اس کے مرتبے کو نمایاں کرنے کے بجائے سادہ اور براہ راست گفتگو کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔ چنانچہ احترام ظاہر کرنے کے لیے کسی مخصوص لفظ پر انحصار کرنے کے بجائے جملے کی ساخت، لہجے اور موقع و محل کو اہمیت دی جاتی ہے۔

یہ سماجی رویے فن لینڈ میں بھی کسی حد تک دیکھے جاسکتے ہیں اگرچہ فنش زبان کا تعلق ڈینش، سویڈش، آئس لینڈی اور نارویجین زبانوں سے مختلف لسانی خاندان سے ہے۔

ڈاکٹر پوچوسکی کے مطابق زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ کوئی شخص اپنی بات کس انداز میں پیش کرتا ہے۔

’پلیز‘ کہے بغیر بھی شائستگی ممکن ہے

ڈینیئلا ہملگرین کے مطابق سیاحوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کے رویوں کا مشاہدہ کریں اور اسی ماحول کے مطابق گفتگو کا انداز اپنائیں۔

یہ بھی پڑھیے: اسپین کا وہ ننھا گاؤں جہاں ایک ہی رات میں 2 بار غروب آفتاب دکھائی دے گا

ان کا کہنا ہے کہ کسی جگہ پر شائستگی کا مناسب معیار سمجھنے کے لیے وہاں کے لوگوں کے باہمی میل جول، لہجے اور رویوں پر توجہ دینا مفید رہتا ہے۔ مقامی زبان سے ناواقف افراد بھی یہ دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ دکان داروں، ہوٹل کے عملے اور اجنبیوں سے کس طرح بات کرتے ہیں۔

سویڈن میں کسی درخواست کے ساتھ ’ٹیک‘ یعنی شکریہ کہنا ایک عام طریقہ ہے۔ اس لفظ کے استعمال کو بعض تحقیقات میں سماجی برابری اور باہمی تعاون کے تصور سے بھی جوڑا گیا ہے نہ کہ کسی کے سامنے مرعوب ہونے یا غیرمعمولی عاجزی دکھانے سے۔

خطے کی مختلف زبانوں میں شکریہ ادا کرنے کے الفاظ بھی ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ ڈینش میں ’تاک‘، نارویجین اور آئس لینڈی میں ’تاک‘ یا ’تاک‘ سے ملتا جلتا لفظ جب کہ فنش میں ’کیوتوس‘ استعمال ہوتا ہے۔

تاہم سیاحوں کو اس بات پر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ وہ مقامی زبان میں کوئی لفظ کہنا بھول گئے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص ڈنمارک میں کافی کا آرڈر دیتے وقت ’تاک‘ نہ کہے تو ضروری نہیں کہ لوگ اسے بدتمیز سمجھیں۔

ضرورت سے زیادہ شائستگی بھی غیرمعمولی لگ سکتی ہے

ڈینیئلا ہملگرین کے مطابق بعض حالات میں ضرورت سے زیادہ رسمی انداز اختیار کرنا بھی غیرمعمولی محسوس ہوسکتا ہے اور بعض لوگ اسے شک کی نگاہ سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: طویل فضائی سفر کے بعد ’جیٹ لیگ‘ جسم پر کیا اثرات ڈالتا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملازمت کے انٹرویو کے بعد روایتی انداز میں شکریے کا کارڈ بھیجنا ان کے مشاہدے میں عام نہیں۔ ان کے خیال میں ایسا کرنا بعض اوقات ضرورت سے زیادہ تکلف یا کسی فائدے کی توقع رکھنے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سفر کرنے والوں کے لیے بنیادی سبق یہ ہے کہ شائستگی ہر معاشرے میں ایک ہی لفظ یا رسم کی پابند نہیں ہوتی۔ بعض زبانوں میں احترام ظاہر کرنے کے لیے ’پلیز‘ کہنا عام ہے جب کہ دوسرے معاشروں میں یہی مقصد لہجے، جملے کے انتخاب، مسکراہٹ اور باہمی احترام سے حاصل کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: مریخ پر زندگی کا اسکاٹ لینڈ سے کیا واسطہ؟ ناسا نے اہل زمین کو حیران کردیا

لہٰذا نارڈک ممالک میں اگر آپ کو بار بار ’پلیز‘ سننے کو نہ ملے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں کے لوگ شائستگی کو اہمیت نہیں دیتے۔ ممکن ہے وہ احترام ظاہر کرنے کا ایک مختلف طریقہ اختیار کر رہے ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp