سعودی سائنس دانوں کا طب میں انقلابی کارنامہ: زندہ خلیوں کے اندر دوا بنانے والی نینو ’ڈرگ فیکٹری‘ تیار

جمعہ 15 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں نے نینو ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ایسا ننھا ’ڈرگ فیکٹری‘ سسٹم تیار کیا ہے جو زندہ خلیوں کے اندر دوا بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب: ریاض میٹرو کا سب سے بڑا ویسٹرن اسٹیشن مکمل طور پر فعال

جدہ سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق محققین نے نہایت باریک نینو ذرات تیار کیے ہیں جو چھ مختلف پروٹینز کو زندہ خلیوں کے اندر پہنچا سکتے ہیں۔ یہ پروٹینز مل کر وائلیسین نامی ایک بایو ایکٹو مرکب تیار کرتے ہیں جس پر علاجی مقاصد کے لیے تحقیق جاری ہے۔

عرب نیوز کے مطابق یہ تحقیق حال ہی میں سائنسی جریدے ایڈوانسڈ میٹیریلز میں شائع ہوئی جس میں نینو ٹیکنالوجی، میٹیریلز سائنس اور بایو انجینیئرنگ کو یکجا کیا گیا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ایسی ادویات بنانے میں مدد دے سکتی ہے جو جسم کے اندر صرف متاثرہ حصے میں تیار ہوں، جس سے صحت مند ٹشوز پر منفی اثرات کم کیے جا سکیں گے۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے 6 پروٹینز کو خاص قسم کے اسفنج نما ذرات میں بند کیا جنہیں ’میٹل آرگینک فریم ورکس‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ذرات مصنوعی عضویات کی طرح کام کرتے ہیں اور زندہ خلیوں کے اندر جا کر حیاتیاتی عمل انجام دیتے ہیں۔

محققین کے مطابق خلیوں کے اندر پہنچنے کے بعد یہ پروٹینز متحرک رہے اور مرحلہ وار ایک سادہ امائنو ایسڈ کو وائلیسین میں تبدیل کرتے رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اب تک کا سب سے پیچیدہ ملٹی پروٹین سسٹم ہے جسے کامیابی سے زندہ خلیوں میں منتقل کیا گیا۔

مزید پڑھیے: سعودی طلبا نے ریاضی اولمپیاڈ میں 2 طلائی تمغے جیت لیے

رائیک گرونبرگ نے کہا کہ یہ منصوبہ ابتدا میں ایک بڑا اور مشکل ہدف محسوس ہوتا تھا کیونکہ عام طور پر ایک یا دو پروٹینز کو خلیوں میں پہنچانا ہی انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح نوین خشاب نے بتایا کہ ابتدائی مراحل میں روایتی مواد کی وجہ سے پروٹینز اپنی فعالیت کھو دیتے تھے تاہم زیادہ مسام دار اور اسفنج نما ڈھانچہ تیار کرکے اس مسئلے کو حل کر لیا گیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم کو مستقبل میں مختلف بیماریوں کے مطابق ڈھالا جا سکے گا تاکہ ’پروگرام ایبل‘ علاج تیار کیے جا سکیں۔

اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور طبی استعمال سے پہلے مزید تجربات درکار ہیں تاہم ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت مستقبل میں ایسی ادویات کی راہ ہموار کر سکتی ہے جو براہِ راست بیمار ٹشوز کے اندر تیار ہوں اور جسم کے دوسرے حصوں پر کم مضر اثرات ڈالیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں ہجرتی پرندوں کے تحفظ کی کوششیں

تحقیقی ٹیم اب اس نظام کو جانوروں پر آزمانے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ اس کی علاج کرنے صلاحیت کا مزید جائزہ لیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں 45 روز کی توسیع پر اتفاق

ڈیزل اور پیٹرول کی فی لیٹر قیمتوں میں 5،5 روپوں کی کمی کردی گئی

امریکا نے پولینڈ میں 4 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ منسوخ کردیا

فاطمہ ثنا کا ایک اور سنگ میل: صرف 15 گیندوں پر نصف سینچری بناکر ٹی 20 کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا

ڈاکٹر انعم فاطمہ پر ٹرولنگ، پی ٹی آئی کا خواتین کے ساتھ رویہ ایک بار پھر آشکار

ویڈیو

کوکین کوئین کے خلاف اگر منشیات اور اسلحہ رکھنے کا جرم ثابت ہوجائے تو مجموعی طور پر کتنی سزا ہوسکتی ہے؟

امریکا چین مذاکرات میں تجارت پر بات، اور روبیو کے نام سے جڑا دلچسپ معاملہ، آبنائے ہرمز بھی زیرِ بحث

پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ اجرا، وزیر خزانہ نے چین کے ساتھ مالی تعاون کو تاریخی سنگ میل قرار دے دیا

کالم / تجزیہ

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں

کبھی آپ نے ‘ناکامی’ کی تقریب منائی ہے؟

زخمی کھلاڑی کی شاندار اننگز