ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال اتوار کو دوسرے روز بھی جاری رہی، جبکہ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات پیر کو ہونے کا امکان ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے مطالبات منظور ہونے تک ہڑتال ختم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت سے مذاکرات ناکام، گڈز ٹرانسپورٹرز نے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا آغاز کردیا
صدر آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد ملک شہزاد اعوان نے اپنے بیان میں کہاکہ پاکستان بھر کے گڈز ٹرانسپورٹرز دوسرے روز بھی ہڑتال پر ہیں اور ملک گیر پہیہ جام جاری ہے۔ ان کے مطابق وفاقی اور سندھ حکومت کے ساتھ پیر کو مذاکرات ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ مذاکرات میں وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کے علاوہ وزارت پورٹ اینڈ شپنگ، وزارت خزانہ اور وزارت پٹرولیم کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔
ملک شہزاد اعوان نے واضح کیاکہ ٹرانسپورٹرز محض یقین دہانیوں کی بنیاد پر ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دسمبر میں ہونے والی ملک گیر ہڑتال کے دوران بھی ٹرانسپورٹرز کے ساتھ غلط بیانی کی گئی تھی، اس لیے اب مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
آئل ٹینکرز مالکان کی بھی وزیر پٹرولیم سے ملاقات طے
دوسری جانب آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن اور وفاقی وزیر پٹرولیم کے درمیان بھی پیر کو مذاکرات ہوں گے۔
وزیر پٹرولیم نے ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو ملاقات کے لیے پیر کے روز اسلام آباد طلب کرلیا ہے۔
آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر عابد اللہ آفریدی نے بتایا کہ وہ 4 رکنی وفد کے ہمراہ وفاقی وزیر پٹرولیم سے ملاقات کریں گے۔ ان کے مطابق ملاقات پیر کو شام 5 بجے ہوگی۔
مزید پڑھیں: گڈز ٹرانسپورٹرز کے بعد آل پاکستان ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے بھی پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا
عابد اللہ آفریدی نے کہاکہ اگر مذاکرات میں ایسوسی ایشن کے مطالبات منظور کرلیے گئے تو اجلاس کے بعد ہی اس حوالے سے اعلان کردیا جائے گا، تاہم مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو آئل ٹینکرز کی جانب سے بھی ہڑتال کا اعلان کیا جائے گا۔














