ماسکو فارمیٹ مشترکہ اعلامیہ کی ناکامی کے بعد روسی وزیر داخلہ کا دورہ پاکستان کیوں اہم ہے؟

بدھ 14 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے دورے پر آئے ہوئے ہر سربراہ کے ساتھ دہشتگردی کے حوالے سے افغان سرزمین کے استعمال پر ضرور بات کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کسی بھی روسی وزیرداخلہ کا پاکستان کا پہلا دورہ: ولادیمیر کولاکولتسیف اسلام آباد پہنچ گئے

روسی وزیرداخلہ ولادمیرکولاکولتسیف اس وقت 4 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان میں ہیں وہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی دعوت پر گزشتہ روز پاکستان پہنچے تھے۔ وزارت داخلہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی روسی وزیر داخلہ کی جانب سے یہ پہلا دورہ ہے اس دورے میں مشترکہ تعاون، دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر بات چیت ہو گی۔

5 اکتوبر کو روس میں ماسکو فارمیٹ مذاکرات کے اختتام پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشتگردی کی پشت پناہی کے حوالے سے اختلافات پر مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا جس کے بعد 6 اکتوبر کو ایک بیان میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے طالبان حکومت کی کارکردگی کی تعریف کی اور پاکستان اور افغانستان کو تعلقات معمول پر لانے کی حمایت کی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ روس دنیا میں واحد ملک ہے جس نے باقاعدہ طور پر افغان طالبان حکومت کو تسلیم کر رکھا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان سے جب وی نیوز نے سوال کیا کہ آیا پاکستان دورے پر آئے ہوئے روسی وزیر داخلہ کے سامنے افغان سرزمین سے لاحق دہشتگردی کے خطرات پر بات کرے گا تو ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان، افغان سرزمین کے دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے کے حوالے سے اپنے دورے پر آئے ہوئے ہر غیر ملکی سربراہ سے گفتگو کرتا ہے‘۔
ترجمان دفتر خارجہ کے ردعمل سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان روس کے ساتھ باقی معاملات کے علاوہ اس مسئلے پر بھی گفتگو کرے گا۔

ماسکو فارمیٹ مذاکرات میں کیا ہوا؟

ماسکو فارمیٹ مذاکرات میں پاکستان بھارت روس ایران کے علاوہ وسط ایشیائی ممالک شریک ہوتے ہیں۔ گزشتہ برس ماسکو فارمیٹ مذاکرات میں افغان سرزمین پر دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور اُن سے لاحق خطرات مشترکہ اعلامیہ  کا حصہ تھے لیکن اس سال افغانستان نے اس حوالے سے اعتراض اٹھا دیا جس کے باعث مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا۔ اس پر روسی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا گزشتہ برس یہی الفاظ مشترکہ اعلامیہ میں استعمال کیے گئے لیکن طالبان حکومت نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ تاہم طالبان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ اُن کے دوطرفہ تعلقات کی نوعیت بدل چکی ہے اس لئے اُنہیں یہ الفاظ قبول نہیں۔ روسی وزیر خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے کو ناخوشگوار قرار دیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے 9 اکتوبر کی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا تھا کہ پاکستان افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشتگردی کو اپنے لیے اور خطے کے دوسرے ممالک کے لیے سنگین خطرہ سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق افغان طالبان کا پہلے سے طے شدہ زبان سے پیچھے ہٹنا قابل توجہ ہے تاہم مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے سے علاقائی مذاکرات کی اہمیت ختم نہیں ہو جاتی۔

روسی وزیرِ داخلہ کا دورہ کیوں اہم ہے؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ماسکو فارمیٹ مذاکرات میں دہشتگردی سے متعلق مشترکہ اعلامیے کی زبان پر اختلافات کے چند روز بعد روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسلام آباد اور کابل کے درمیان سیکیورٹی معاملات پر کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشتگردی کے خطرات پر اتفاقِ رائے کی کوششیں جاری ہیں۔

مزید پڑھیے: روسی وزیر داخلہ کا اسلام آباد پولیس لائنز اور پاکستان مونومنٹ کا دورہ، پاکستانی پرچم کو بوسہ بھی دیا

وزارت داخلہ کے مطابق قیام کے دوران وہ پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوگی۔ روسی وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق دورے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کی موجودہ صورتِ حال اور مستقبل کے امکانات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔

پاکستان اور روس کے درمیان انسدادِ دہشتگردی تعاون

پاکستان اور روس کے درمیان انسداد دہشتگردی کے شعبے میں تعاون پہلے سے جاری ہے۔ جون 2026 میں اسلام آباد میں دونوں ممالک کے مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشتگردی کے خطرات پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔ جولائی میں نیویارک میں محسن نقوی اور ولادیمیر کولاکولتسیف کی ملاقات میں بھی دہشتگردی، منشیات، سائبر کرائم اور خطے میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: روسی اور چینی قیادت کی ملاقات، چین کا سخت لہجہ، کیا پاکستان کا کردار بڑھنے جارہا ہے؟

اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ آیا دونوں ممالک کی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں افغان سرزمین سے دہشتگردی کے مسئلے، پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات اور ماسکو کی ممکنہ سہولت کاری پر کوئی ٹھوس پیشرفت ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر ان معاملات پر بات چیت ہوتی ہے تو روسی وزیر داخلہ کا یہ دورہ محض دوطرفہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے آگے بڑھ کر علاقائی سیکیورٹی کے وسیع تر تناظر میں بھی اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp