دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ساتھ ایک نیا اور سنگین چیلنج بھی سامنے آ رہا ہے جس کی بڑی وجہ شدید موسمی حالات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھونڈ لیا
سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے دوران جہاں شہری ٹھنڈک حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں وہیں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے اے آئی ڈیٹا سینٹرز میں نصب طاقتور کمپیوٹر چپس کو فعال رکھنے کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ شدید موسمی حالات نے واضح کر دیا ہے کہ گرمی کی لہریں، سیلاب، تیز ہوائیں اور جنگلاتی آگ جیسے عوامل صرف عام زندگی ہی نہیں بلکہ اہم انفراسٹرکچر، جیسے کارخانوں، جوہری بجلی گھروں اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے بھی خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ ایئر کنڈیشنرز کے بڑھتے استعمال سے بجلی کے گرڈز پر اضافی دباؤ پڑتا ہے جس سے بلیک آؤٹ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
انشورنس کمپنی زیورخ کے ہیڈ آف انٹرنیشنل کنسٹرکشن پیٹرک میک برائیڈ کے مطابق گزشتہ 3 برسوں کے دوران امریکا میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر سے متعلق انشورنس نقصانات میں شدید موسمی حالات سب سے بڑی وجہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ ان کے بقول اب کمپنی کے تقریباً ایک تہائی نقصانات کا تعلق براہ راست موسمی آفات سے ہے۔
پیٹرک میک برائیڈ نے کہا کہ شدید موسمی حالات اب ایسا پس منظر کا خطرہ نہیں رہے جسے نظر انداز کیا جا سکے۔
مزید پڑھیے: ’کیا ٹیک کمپنیوں کا کلاؤڈ ڈیٹا دنیا کو پانی سے محروم کر رہا ہے؟ ایمیزون کا حیران کن اعتراف
انہوں نے وضاحت کی کہ بہت سے نئے ڈیٹا سینٹرز نسبتاً سستی زمین کی دستیابی کی وجہ سے مضافاتی یا دیہی علاقوں میں تعمیر کیے جا رہے ہیں جہاں ماضی میں شدید موسمی حالات کا ریکارڈ محدود تھا۔ تاہم اب ان علاقوں میں اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے موسمی خطرات کی زد میں آ سکتے ہیں۔
تقریباً 80 فیصد ڈیٹا سینٹرز موسمی خطرات سے دوچار
ماحولیاتی خطرات کا تجزیہ کرنے والی کمپنی فرسٹ اسٹریٹ کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 79 فیصد ڈیٹا سینٹرز کی گنجائش ایسے علاقوں میں واقع ہے جہاں سیلاب، شدید آندھیوں اور جنگلاتی آگ جیسے موسمی خطرات کا امکان زیادہ ہے۔ یہ عوامل نہ صرف آپریشنل رکاوٹوں کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ انشورنس اور مرمت کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔
مارش رسک کے امریکی پراپرٹی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ڈویژن کے سربراہ جو میسجاک کا کہنا ہے کہ اب سوال یہ نہیں کہ موسمیاتی تبدیلیاں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو متاثر کریں گی یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کمپنیاں ان خطرات کی نشاندہی، پیمائش اور انتظام کیسے کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایلون مسک کا زمین پر بجلی اور پانی کی قلت سے بچنے کے لیے ڈیٹا سینٹرز خلا میں منتقل کرنے کا اعلان
ان کے مطابق اگر ان خطرات کو مؤثر طریقے سے نہ سنبھالا گیا تو اس سے اخراجات میں اضافہ اور آپریشنل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جو اے آئی پر مبنی ڈیٹا سینٹرز کے پھیلاؤ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
نئے ڈیٹا سینٹرز کن علاقوں میں زیادہ خطرے سے دوچار ہیں؟
زیورخ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت زیرِ تعمیر 64 فیصد ڈیٹا سینٹرز روایتی مراکز جیسے شمالی ورجینیا سے باہر نئے علاقوں، مثلاً مغربی ٹیکساس، ٹینیسی، وسکونسن اور اوہائیو میں منتقل ہو رہے ہیں۔
پیٹرک میک برائیڈ کے مطابق ان علاقوں میں بگولوں، ژالہ باری اور تیز ہواؤں کے باعث بڑے پیمانے پر نقصان کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر ان ڈیٹا سینٹرز کے لیے جن میں کولنگ سسٹمز، ٹاورز اور شمسی توانائی کے نظام نصب ہوں۔
انہوں نے برازیل کو ایک ایسی ابھرتی ہوئی مارکیٹ قرار دیا جہاں شدید گرمی مستقبل میں بڑا چیلنج بن سکتی ہے جبکہ یورپ میں بھی ڈیٹا سینٹرز ایسے علاقوں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں جہاں درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
شدید گرمی، ڈیٹا سینٹرز اور بجلی کے نظام پر دوہرا دباؤ
اے آئی سافٹ ویئر کمپنی رائزوم کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو مشعل تھدانی کے مطابق، شدید گرمی نہ صرف ڈیٹا سینٹرز بلکہ ان بجلی کے نظاموں کو بھی متاثر کرتی ہے جن پر یہ مراکز انحصار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بجلی کی بچت: میٹا کا اپنے ڈیٹا سینٹرز شمسی توانائی سے چلانے کا منصوبہ
انہوں نے بتایا کہ معمول کے حالات میں بھی ڈیٹا سینٹرز کی مجموعی توانائی کا تقریباً 40 فیصد حصہ صرف کولنگ سسٹمز استعمال کرتے ہیں، جبکہ شدید گرمی کے دوران یہ ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ دوسری جانب اسی وقت گھروں اور دفاتر میں ایئر کنڈیشنرز کے استعمال سے بجلی کی طلب بھی عروج پر پہنچ جاتی ہے۔
ان کے مطابق ڈیٹا سینٹرز کو سب سے زیادہ توانائی عین اس وقت درکار ہوتی ہے جب بجلی کے گرڈ کے پاس فراہمی کی گنجائش سب سے کم ہوتی ہے۔
انہوں نے اٹلی کے شہر ٹورین کی مثال دی جہاں مئی میں درجہ حرارت تقریباً 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا جس کے نتیجے میں زیرِ زمین بجلی کی تاروں پر شدید دباؤ پڑا اور متعدد بار بجلی کی فراہمی معطل ہوئی۔
ٹیکنالوجی کمپنیاں کس طرح تیاری کر رہی ہیں؟
ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے کہا ہے کہ وہ بدلتے موسمی حالات کے پیش نظر اپنے ڈیٹا سینٹرز کو مختلف ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق مقام کے انتخاب، متبادل نظاموں اور ریئل ٹائم نگرانی کے ذریعے شدید گرمی اور موسمی خطرات سے نمٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے نئے قلعے: ہزاروں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر جاری، لاگت کتنی؟
دوسری جانب این ویڈیا نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اس کے نئے اے آئی سرورز کا کولنگ سسٹم 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت پر کام کر سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق، کولنگ سسٹم کے درجہ حرارت میں صرف ایک ڈگری اضافے سے توانائی کے اخراجات میں تقریباً 4 فیصد کمی لائی جا سکتی ہے۔
جانسن کنٹرولز کے چیف کمرشل آفیسر ایرون لیوس کے مطابق ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت نے کولنگ ٹیکنالوجی میں جدت کو بھی تیز کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں پہلی بار یورپ میں ایک صارف نے ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کے منصوبے میں موسمیاتی تبدیلی کے عنصر کو بھی شامل کیا تاکہ مستقبل میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا سامنا کیا جا سکے۔
مزید پڑھیے: کیا بڑے سائز کے ڈیٹا سینٹرز کا دور ختم ہونے والا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موسمیاتی تبدیلیاں اے آئی انقلاب کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہی ہیں تاہم تیز رفتار تکنیکی ترقی مستقبل میں ان خطرات سے نمٹنے کے نئے حل بھی فراہم کر سکتی ہے۔














