کبھی ٹیکنالوجی کی دنیا کا روشن مستقبل سمجھی جانے والی الزبتھ ہومز نے ایک انقلابی طبی آلے کی ایجاد کا دعویٰ کیا لیکن ان کا جھوٹ بے نقاب ہونے پر وہ جیل پہنچ گئیں۔ ایک نئی دستاویزی فلم نے ایک بار پھر ان کی شخصیت، دعوؤں اور طرز عمل پر بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’محبت‘ اور ’سچی ہمدردی‘ کا جھانسا دے کر نرس کا 99 سالہ مریضہ کے ساتھ کروڑوں کا فراڈ
امریکی ٹیکنالوجی کی دنیا میں کبھی غیر معمولی کامیابی کی علامت سمجھی جانے والی الزبتھ ہومز آج ایک ایسے فراڈ کی وجہ سے مشہور ہیں جس نے سرمایہ کاروں، طبی شعبے اور عوامی اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی کمپنی نے ایک ایسا جدید آلہ تیار کیا ہے جو خون کے صرف ایک قطرے سے متعدد بیماریوں کی تشخیص کر سکتا ہے لیکن بعد میں ان کے دعوے غلط ثابت ہوئے اور انہیں سرمایہ کاروں سے دھوکا دہی کے جرم میں سزا سنائی گئی۔
ایک زمانے میں ارب پتی کاروباری شخصیت کے طور پر شہرت حاصل کرنے والی ہومز کی کہانی اب ایک بار پھر موضوع بحث بن گئی ہے۔ نئی دستاویزی فلم ’یو کین سی ایوری تھنگ‘ میں ان کی زندگی، شخصیت اور متنازع دعوؤں کو قریب سے دکھایا گیا ہے جس نے فلمی حلقوں اور ناقدین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
فلم کے ہدایت کار نیتھن فیلڈر کے مطابق ابتدا میں ان کا مقصد الزبتھ ہومز پر دستاویزی فلم بنانا نہیں تھا بلکہ وہ صرف ان سے ملاقات اور ان کی شخصیت کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ تاہم، یہ ملاقات ایک ایسی فلم کی بنیاد بن گئی جس نے ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیا ہے کہ آخر ہومز کی شخصیت میں ایسا کیا ہے جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ارب پتی بننے سے جیل پہنچنے تک
الزبتھ ہومز نے سنہ 2014 میں اس وقت عالمی شہرت حاصل کی جب انہیں اپنی کمپنی ’تھیرانوس‘ کی بانی اور خودساختہ ارب پتی کاروباری شخصیت کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔
مزید پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ کا خلائی مخلوق اور پراسرار اڑن طشتریوں سے متعلق خفیہ دستاویزات منظرعام پر لانے کا وعدہ
ان کی کمپنی کا دعویٰ تھا کہ اس نے خون کے چند قطروں سے متعدد بیماریوں کی تشخیص کرنے والی ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا تو طبی شعبے میں ایک بڑی تبدیلی آ سکتی تھی، کیونکہ اس کے ذریعے روایتی طریقوں کے مقابلے میں کم خون لے کر کئی ٹیسٹ کرنا ممکن ہو سکتا تھا۔
ہومز نے اپنی شخصیت کا ایک منفرد تاثر بھی قائم کیا۔ ان کی بڑی آنکھیں، گہری سرخ لپ اسٹک اور معروف ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت اسٹیو جابز کی طرح سیاہ رنگ کی اونچی کالر والی شرٹ ان کی پہچان بن گئی۔ وہ کاروباری جریدے ’فارچیون‘ کے سرورق پر بھی نمایاں ہوئیں۔
تاہم، بعد میں انکشاف ہوا کہ کمپنی کا تیار کردہ آلہ درست طور پر کام نہیں کر رہا تھا اور بعض اوقات غلط نتائج بھی دے رہا تھا۔ اس کے باوجود کمپنی نے اپنی ٹیکنالوجی کے بارے میں بڑے دعوے کیے تھے۔
سرمایہ کاروں کو دھوکا دینے کے جرم میں سزا پانے کے بعد ہومز مئی 2023 میں وفاقی جیل پہنچ گئیں۔
مزید پڑھیں: ’یک نام دو قالب‘: نئے شادی شدہ چینی جوڑے کی دھوم، دونوں میں حیرت انگیز طور پر کئی باتیں مشترک
ان کی کہانی اس لیے بھی غیر معمولی سمجھی جاتی ہے کہ ایک وقت میں انہیں ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا بدلنے والی کاروباری شخصیت قرار دیا جا رہا تھا، لیکن بعد میں وہ اسی شعبے میں دھوکا دہی اور مبالغہ آمیز دعوؤں کی نمایاں مثال بن گئیں۔
نئی دستاویزی فلم میں کیا دکھایا گیا ہے؟
نیتھن فیلڈر اور ان کے شریک ہدایت کار لانس اوپنہائم نے جیل جانے سے چند ہفتے قبل الزبتھ ہومز، ان کے ساتھی بلی ایونز اور ان کے 2 کم عمر بچوں کے ساتھ وقت گزارا اور ان کی نجی زندگی کو فلمایا۔
ہومز کی جانب سے فلم سازوں کو اس قدر قریب سے اپنی زندگی دکھانے کی اجازت دینے کو ان کی ساکھ بہتر بنانے اور اپنی بے گناہی کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
جیل جانے سے کچھ عرصہ قبل ہومز نے نیویارک ٹائمز کو ایک طویل انٹرویو بھی دیا تھا جس میں ان کی شخصیت کا ایک نرم اور گھریلو پہلو نمایاں کیا گیا۔ اس انٹرویو میں انہیں ایک ایسی ماں کے طور پر پیش کیا گیا جو اپنے بچوں سے محبت کرتی ہیں اور جنسی تشدد کا شکار افراد کی مدد کے لیے بھی رضاکارانہ کام کرتی ہیں۔ تاہم، اس انٹرویو پر تنقید بھی ہوئی کہ اس میں ان کی نئی اور نرم تصویر کو ضرورت سے زیادہ قبول کیا گیا۔
فلم ساز لانس اوپنہائم کے مطابق انہیں معلوم ہوا تھا کہ ہومز مختلف فلمی کمپنیوں سے رابطہ کر رہی ہیں اور معروف فلمی کمپنی اے 24 سے بھی بات کر چکی ہیں۔ اس کے بعد دونوں ہدایت کاروں نے ان سے ملاقات کی اور فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے: چاول کی بھوسی سے بنے ماحول دوست گھر، کیا یہ لکڑی و کنکریٹ کی جگہ لے لیں گے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود فیلڈر بھی اس بات پر حیران تھے کہ ہومز نے انہیں فلم بنانے کی اجازت کیوں دی کیونکہ ان کے بقول وہ نہیں سمجھتے تھے کہ ہومز انہیں اس کام کے لیے منتخب کریں گی۔
فیلڈر اپنی طنزیہ اور غیر روایتی ٹیلی ویژن سیریز کے لیے مشہور ہیں جبکہ اوپنہائم بھی دستاویزی فلم سازی کے شعبے میں منفرد انداز رکھتے ہیں۔
کیمرے کے سامنے ہومز کا رویہ
دستاویزی فلم میں ہومز کی وہی شخصیت دکھائی دیتی ہے جس نے ماضی میں لوگوں کو حیران کیا تھا تاہم اب ان کی ظاہری وضع قطع پہلے سے مختلف ہے۔
فلم میں انہیں بعض مناظر میں ننگے پاؤں اپنے بچے کو گود میں لیے دکھایا گیا ہے جہاں وہ فیلڈر سے گفتگو کرتی ہیں۔ ان کی پہلے والی نمایاں سرخ لپ اسٹک اور انتہائی سنوارا ہوا انداز بھی اب نظر نہیں آتا۔
لیکن ان کی آنکھوں میں براہ راست دیکھنے اور پلکیں کم جھپکنے کا انداز اب بھی موجود ہے۔
فلم میں ہومز مسلسل اس بات پر اصرار کرتی ہیں کہ انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، ان کی طبی ٹیکنالوجی کام کرتی تھی اور لوگوں نے ان کے ساتھ ناانصافی کی۔ وہ اپنی ساکھ اور شہرت کو پہنچنے والے نقصان پر گفتگو کرتے ہوئے جذباتی بھی ہو جاتی ہیں۔
فیلڈر ان کے دعوؤں پر حیرت اور شکوک کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک موقعے پر وہ ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا؟ ہومز کا جواب نفی میں ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: ہیری پوٹر میں نظر آنے والے نکولس فلیمل کیا واقعی پتھر سے سونا بناتے تھے؟ 600 سال پرانے راز سے پردہ اٹھ گیا
فلم کی نمائش کے دوران اس منظر پر حاضرین نے خاصا ردعمل ظاہر کیا اور کئی مواقع پر ہنسی بھی سنائی دی۔
کیا ہومز خود اپنے دعوؤں پر یقین رکھتی ہیں؟
دستاویزی فلم کا ایک اہم موڑ اس وقت سامنے آتا ہے جب ہومز جیل چلی جاتی ہیں اور فیلڈر اپنی گفتگو میں ایک دوسرے شخص کو شامل کرتے ہیں۔ یہ کردار فلم میں ایک نیا زاویہ پیش کرتا ہے اور ہومز کے طرزِ عمل پر ایسے سوالات اٹھاتا ہے جو شاید دیکھنے والے بھی ذہن میں رکھتے ہیں۔
فلم میں یہ سوال زیر بحث آتا ہے کہ کیا ہومز واقعی اپنے آپ کو بے قصور سمجھتی ہیں یا وہ اپنی شخصیت اور باتوں کے ذریعے دوسروں کو قائل کرنے کی کوشش کرتی ہیں؟ یہاں تک کہ فیلڈر سے بھی پوچھا جاتا ہے کہ کہیں وہ خود ہومز کی شخصیت سے متاثر ہو کر ان کے دعوؤں کو قبول تو نہیں کرنے لگے۔
فلم ان سوالات کا کوئی حتمی جواب نہیں دیتی لیکن 2 امکانات ضرور سامنے رکھتی ہے۔ ایک یہ کہ ہومز غیر معمولی طور پر دوسروں کو اپنے زیر اثر لانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ دوسرا امکان یہ ہے کہ وہ خود اپنے تصور اور حقیقت کے درمیان فرق نہیں کر پا رہیں۔
فلم کی خاص بات یہی ہے کہ یہ دیکھنے والوں کو بھی اس الجھن میں مبتلا رکھتی ہے کہ ہومز کی باتوں میں حقیقت کتنی ہے اور وہ خود اپنی کہانی کو کس نظر سے دیکھتی ہیں۔
ہومز کا مستقبل اور ان کی شخصیت سے وابستہ سوالات
الزبتھ ہومز کی شہرت ان کے جیل جانے کے باوجود ختم نہیں ہوئی۔ ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں اگلے سال جیل سے نیم آزادی کے ایک مرکز منتقل کیا جانا ہے جبکہ ان کی مکمل رہائی 2030 میں متوقع ہے۔
مزید پڑھیے: ایک گلوب پر امریکا تھا ہی نہیں، ویانا کا عجائب گھر انسانی علم کی دلچسپ داستان کیسے سناتا ہے؟
ان کا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر فعال اکاؤنٹ بھی موجود ہے جس پر ان کی ایک نمایاں پوسٹ میں لکھا ہے کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے اور اپنے بچوں اور زندگی کے ساتھی کے پاس واپس آنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔

ان کی زندگی پر اس سے پہلے بھی کئی دستاویزی اور ڈرامائی منصوبے بن چکے ہیں۔ ہدایت کار ایلکس گبنی کی دستاویزی فلم ’دی انوینٹر‘، پوڈکاسٹ ’دی ڈراپ آؤٹ‘ اور اسی نام سے بننے والی ٹیلی ویژن سیریز ان کی کہانی کو مختلف انداز میں پیش کر چکی ہیں۔
ٹیلی ویژن سیریز میں ہومز کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ امانڈا سیفریڈ کو اپنی اداکاری پر ایمی ایوارڈ بھی ملا تھا۔
نئی دستاویزی فلم کو اس کے منفرد انداز، مزاح اور حقیقت و تاثر کے درمیان فرق کو موضوع بنانے پر خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔ بعض ناقدین نے اسے شاہکار قرار دیا ہے جبکہ یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی ہیں کہ اسے بہترین فلم کی آسکر نامزدگی مل سکتی ہے، جو کسی دستاویزی فلم کے لیے ایک غیر معمولی اعزاز ہوگا۔
فلم کے ہدایت کار فیلڈر کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہومز کے ساتھ کام کرنے کے دوران انہوں نے کیا کچھ دیکھا اور محسوس کیا۔ اوپنہائم کے مطابق فلم بندی کے دوران ہر روز ایک ذہنی الجھن کا سامنا کرنا پڑتا تھا کیونکہ ہومز کی شخصیت کو سمجھنے کے معاملے میں خود فلم سازوں اور ان کی ٹیم کے افراد کی آرا بھی مختلف تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: 134 سال بعد بھی معمہ: کیا لیزی بورڈن نے اپنے والدین کو قتل کیا تھا؟ نیٹ فلکس بھی سرگرم
شاید یہی تضاد الزبتھ ہومز کی کہانی کو مسلسل دلچسپی کا موضوع بنائے ہوئے ہے۔ ایک ایسی خاتون جو کبھی مستقبل کی ٹیکنالوجی کی علامت سمجھی جاتی تھیں آج بھی اپنے جرائم سے انکار کرتی ہیں اور اپنی بے گناہی پر اصرار کرتی ہیں۔ ان کے دعوؤں اور حقیقت کے درمیان یہی فاصلہ ایک بار پھر لوگوں کو ان کی کہانی کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔













