گھر سے دفتر اور مقبول ثقافت تک خواتین اپنے جذبات دبانے کے بجائے ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے لگی ہیں۔ ماہرین کے مطابق غصے کو سمجھنا اور درست انداز میں ظاہر کرنا زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ کی دیہی خواتین: گھر اور باہر کی انگنت ذمہ داریاں صرف انہی کے ذمے کیوں؟
خواتین کو اکثر بچپن ہی سے نرم مزاج، صابر، خوش اخلاق اور دوسروں کا خیال رکھنے والا بننے کی تلقین کی جاتی ہے۔ انہیں یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ اختلاف کی صورت میں تحمل سے کام لیں اور اپنے جذبات، خصوصاً غصے کو قابو میں رکھیں۔ لیکن جب یہی توقعات زندگی کے ہر شعبے میں ان پر اضافی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالنے لگیں تو کیا اپنے غصے کا اظہار کرنا غلط ہے؟
ماہرین کے مطابق خواتین کے غصے کو دیکھنے کا انداز تبدیل ہو رہا ہے۔ اب اسے محض بدتمیزی، جذباتی عدم توازن یا مشکل مزاج ہونے کی علامت سمجھنے کے بجائے ناانصافی کے خلاف ردعمل اور اپنی حدود متعین کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
گھریلو ذمہ داریوں کی غیر مساوی تقسیم، کام کی جگہ پر امتیازی سلوک، ہراسانی اور خواتین سے ہر حال میں خوش اخلاق رہنے کی توقع جیسے مسائل اس غصے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
موسیقی سے وابستہ 34 سالہ چیس گالیا کہتی ہیں کہ وہ پہلے اپنے غصے کو دبا لیا کرتی تھیں کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ کہیں انہیں جذباتی، غیر متوازن یا دوسروں کے ساتھ کام کرنے میں مشکل پیدا کرنے والی خاتون نہ سمجھ لیا جائے۔
ان کے مطابق خواتین اکثر یہ محسوس ہی نہیں کر پاتیں کہ وہ روزمرہ زندگی میں کتنا کچھ برداشت کرتی ہیں اور کتنی مرتبہ اپنے جذبات کو دبا کر خاموش رہنے کا انتخاب کرتی ہیں۔
تاہم اب ان کا رویہ بدل چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی سڑک پر ان پر آوازیں کسے تو وہ اپنے غصے کا اظہار کرتی ہیں اور اس بات کی زیادہ پروا نہیں کرتیں کہ دوسرے ان کے بارے میں کیا سوچیں گے۔
یہ تبدیلی صرف انفرادی رویوں تک محدود نہیں بلکہ کام کی جگہوں، سماجی مباحث اور تفریحی صنعت میں بھی خواتین کے غصے کو زیادہ کھل کر پیش کیا جا رہا ہے۔
غصہ ہمیشہ منفی جذبہ نہیں
ماہر نفسیات ڈاکٹر تارا براک کے مطابق غصے کے پیچھے عموماً کوئی ایسی بات ہوتی ہے جس کی انسان کو پروا ہوتی ہے۔ یہ جذبہ ہمیں کسی مسئلے کی طرف متوجہ کرنے، ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے، اپنی حدود کا تحفظ کرنے اور تبدیلی کے لیے قدم اٹھانے کی توانائی فراہم کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق مسئلہ غصہ محسوس کرنے میں نہیں بلکہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ جذبہ انسان پر اس حد تک حاوی ہو جائے کہ وہ اپنے رویے پر قابو کھو دے یا ایسے اقدامات کرے جن سے دوسروں کو نقصان پہنچے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غصے کو مکمل طور پر دبانے اور اس کے زیر اثر آکر فوری ردعمل دینے دونوں کے بجائے اسے سمجھنا اور مناسب انداز میں ظاہر کرنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: حنا پرویز بٹ کا ترکمانستان میں عالمی خواتین ڈائیلاگ سے خطاب، خواتین کے تحفظ اور بااختیاری پر زور
ماہر نفسیات اور مصنفہ جینیفر کاکس نے خواتین کے غصے پر تحقیق اس وقت شروع کی جب انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے پاس آنے والی بعض خواتین مختلف جسمانی شکایات کے ساتھ ساتھ مسلسل ذہنی دباؤ اور اپنے جذبات دبانے کے مسائل سے بھی دوچار تھیں۔
ان کے مطابق بعض خواتین کو آدھے سر کے درد، معدے کی تکالیف، پٹھوں اور ہڈیوں سے متعلق مسائل اور مدافعتی نظام کی شکایات تھیں۔ ان کے مشاہدے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بہت سی خواتین بیک وقت بچوں کی دیکھ بھال، اپنی ذہنی صحت اور ملازمت کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
کاکس نے بعد میں خواتین کے لیے ایسے گروپ سیشنز بھی شروع کیے جن میں وہ اپنے اندر جمع ہونے والے غصے اور دیگر جذبات پر بات کر سکتی تھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو بچپن ہی سے اچھی، مؤدب، مہربان، خیال رکھنے والی اور دوسروں کی ضروریات کو اپنی ترجیحات پر فوقیت دینے والی بننے کی تربیت دی جاتی ہے۔ لیکن اب ان سے یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ بیک وقت زندگی کے تقریباً تمام شعبوں میں بہترین کارکردگی دکھائیں۔
یہ توقعات بعض اوقات خواتین کے لیے اپنے جذبات کو پہچاننا اور ان کا اظہار کرنا مشکل بنا دیتی ہیں۔
کام کی جگہ پر غصے کا اظہار کیوں اہم ہے؟
خواتین کے لیے اپنی بات منوانا اور پیشہ ورانہ زندگی میں آگے بڑھنا بعض اوقات اس وقت زیادہ مشکل ہو جاتا ہے جب ان سے ہر صورت خوش اخلاق اور دوسروں کو خوش رکھنے والے رویے کی توقع کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کہیں آپ کے بھی اردگرد کوئی سائیکوپیتھ تو نہیں؟ جانیے ایسے شخص کی اہم علامات
لائف کوچ یان ڈانگ جو مردوں کی اکثریت والے شعبوں میں اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والی خواتین کی رہنمائی کرتی ہیں کے مطابق مناسب انداز میں غصے کا اظہار خواتین کی پیشہ ورانہ حیثیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دوسروں کی ہر بات ماننے اور اختلاف سے گریز کرنے والی خواتین ملازمت میں ایک خاص مقام تک پہنچ سکتی ہیں لیکن اعلیٰ عہدوں پر اپنی جگہ بنانے کے لیے بعض اوقات مروجہ طریقہ کار پر سوال اٹھانا اور اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
ڈانگ کے مطابق خواتین عموماً واضح قواعد و ضوابط کے تحت محنت اور تیاری کے ذریعے کامیابی حاصل کرنا سیکھتی ہیں لیکن عملی زندگی میں ترقی کے تقاضے ہمیشہ اتنے واضح نہیں ہوتے۔
ان کے بقول خواتین کو یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی ناراضی اور اختلاف کو اس انداز میں کیسے بیان کریں کہ ان کی بات مؤثر بھی ہو اور ان کا مؤقف بھی واضح رہے۔
اس حوالے سے سنہ 2020 میں سامنے آنے والی ایک تحقیق میں بھی یہ اشارہ ملا تھا کہ کام کی جگہ پر غصے کا اظہار کرنے والی خواتین کو کم حیثیت اور اثر و رسوخ کی حق دار سمجھا جا سکتا ہے جبکہ یہی رویہ اختیار کرنے والے مردوں کے بارے میں ایسا تاثر لازمی طور پر قائم نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیے: بچے کی پیدائش کے بعد کئی ماؤں میں ذہنی صدمے کی علامات، لیکن اکثر تشخیص نہیں ہو پاتی
یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی ایک ہی جذبے کو مردوں اور خواتین کے معاملے میں مختلف پیمانوں سے جانچا جا سکتا ہے۔
ڈانگ خواتین کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ اپنی بات واضح اور براہ راست انداز میں کہیں۔ مثلاً وہ کسی درخواست پر انکار کرتے ہوئے کہہ سکتی ہیں کہ وہ اس پر رضامند نہیں، کسی رویے پر ناپسندیدگی ظاہر کر سکتی ہیں یا یہ واضح کر سکتی ہیں کہ کسی صورت حال نے انہیں مایوس یا پریشان کیا ہے۔
ان کے مطابق اپنے لیے آواز اٹھانا ایک ایسی صلاحیت ہے جسے وقت کے ساتھ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ہر مرتبہ انتہائی موزوں الفاظ یا مکمل طور پر تیار جواب کا انتظار ضروری نہیں۔
خواتین کے غصے کو مقبول ثقافت میں نئی جگہ
خواتین کے غصے کو پیش کرنے کا انداز بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ ماضی میں فلموں اور کہانیوں میں غصے کا اظہار کرنے والی خواتین کو اکثر غیر متوازن، خطرناک یا ناقابل اعتبار کرداروں کے طور پر دکھایا جاتا تھا۔
ماہر نفسیات جینیفر کاکس کے مطابق اب مقبول ثقافت میں ایسی خواتین کی زیادہ مثبت اور حقیقت سے قریب تر عکاسی دیکھنے کو مل رہی ہے جو اپنی ناراضی کو چھپانے کے بجائے اس پر بات کرتی ہیں۔
موسیقی میں بھی اس تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔ گلوکارہ للی ایلن کے سنہ 2025 میں ریلیز ہونے والے البم ویسٹ اینڈ گرل میں ان کی ازدواجی زندگی کے خاتمے سے متعلق تجربات کو نمایاں کیا گیا، جبکہ چارلی ایکس سی ایکس، اولیویا روڈریگو اور چیپل روان جیسی فنکاراؤں کے گانوں میں بھی شدید جذبات، غصے اور احتجاج کا اظہار سننے کو ملتا ہے۔
اسی طرح سنہ 2023 کی مقبول فلم باربی میں بھی ایک ایسی دنیا کے بارے میں مرکزی کردار کی مایوسی اور بے اطمینانی دکھائی گئی جو بظاہر کامل نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں اس سے وابستہ توقعات اور تصورات سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق فن، موسیقی اور فلموں میں ایسے کرداروں کی موجودگی اس تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ خواتین کو ہر صورت نرم مزاج اور مطمئن دکھائی دینا چاہیے۔
خاموشی کے بجائے آواز اٹھانے کا رجحان
خواتین کے غصے کے پیچھے صرف ذاتی یا پیشہ ورانہ مایوسی نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں امتیازی سلوک، تعاقب، ہراسانی اور گھریلو تشدد جیسے سنگین مسائل بھی موجود ہیں۔
یہ تجربات خواتین میں اس احساس کو تقویت دے سکتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو معمول کا حصہ سمجھ کر قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔
چیس گالیا کے مطابق موسیقی کی صنعت میں صنفی امتیاز اور خود اپنے ساتھ پیش آنے والے جنسی حملے کے تجربے پر دوسری خواتین سے کھل کر بات کرنے سے انہیں اپنے اندر موجود غصے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی۔
ان کا کہنا ہے کہ خواتین طویل عرصے سے غصہ محسوس کرتی رہی ہیں لیکن اب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے انہیں دوسری خواتین کے تجربات تک رسائی حاصل ہے۔ اس سے انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ جن مسائل کو وہ کبھی اپنا انفرادی تجربہ سمجھتی تھیں وہ درحقیقت بہت سی دوسری خواتین کو بھی درپیش ہیں۔
مزید پڑھیں: خواتین پر گھر کے ذہنی بوجھ کی ذمہ داری زیادہ کیوں، اسے کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز نے خواتین کو اپنے تجربات بیان کرنے، ایک دوسرے کی حمایت کرنے اور ایسے رویوں پر سوال اٹھانے کا موقع دیا ہے جنہیں پہلے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔
غصے کو تعمیری انداز میں کیسے استعمال کیا جائے؟
ماہرین کے مطابق غصے کو سمجھنے کا پہلا قدم یہ تسلیم کرنا ہے کہ یہ ایک فطری انسانی جذبہ ہے۔ اسے محسوس کرنے پر خود کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ آخر کون سی بات اس کی وجہ بنی۔
ڈاکٹر تارا براک اس مقصد کے لیے ذہنی آگاہی پر مبنی ایک طریقہ تجویز کرتی ہیں جسے انگریزی میں ’رین‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں چار مراحل شامل ہیں۔
جذبے کو پہچاننا
یہ تسلیم کرنا کہ آپ غصہ محسوس کر رہے ہیں اور اسے نظر انداز نہیں کرنا۔
اسے محسوس کرنے کی اجازت دینا: فوری طور پر اپنے جذبات کو دبانے یا خود کو ان کے لیے قصوروار ٹھہرانے کے بجائے انہیں سمجھنے کی کوشش کرنا۔
وجہ جاننا
غور کرنا کہ غصے کے پیچھے کون سا واقعہ، رویہ یا ضرورت پوری نہ ہونے کا احساس موجود ہے۔
اپنے ساتھ ہمدردی کرنا
خود کو سمجھنے اور صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے مہلت دینا تاکہ ردعمل زیادہ متوازن ہو۔
اس طریقے کا مقصد غصے کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے بہتر طور پر سمجھنا اور اس کے زیر اثر نقصان دہ فیصلے کرنے سے بچنا ہے۔
ماہرین کے مطابق اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی ضروری ہے کہ دوسروں کی عزت اور ذاتی حدود کا خیال رکھا جائے۔ ہر اختلاف کو لڑائی میں بدلنے کے بجائے واضح گفتگو، مناسب انکار اور مسئلے کے حل پر توجہ دی جا سکتی ہے۔
آخرکار خواتین کے غصے کو سمجھنے کے لیے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ خوش اخلاقی اور خاموشی ایک ہی چیز نہیں جبکہ تحمل کا مطلب ہر ناانصافی برداشت کرنا بھی نہیں۔
اپنے جذبات کو پہچاننا، اپنی ضروریات بیان کرنا اور نامناسب رویوں کے خلاف آواز اٹھانا ذاتی زندگی اور پیشہ ورانہ تعلقات دونوں میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین میں اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص میں برسوں کیوں لگ جاتے ہیں؟
اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ غصے کو محض دبا دینے یا بے قابو ہونے کے بجائے اسے مسئلے کی نشاندہی اور تعمیری تبدیلی کے لیے استعمال کیا جائے۔













